عید الاضحیٰ کی اہمیت

عیدالاضحیٰ کی ایک اہم اسلامی تہوار ہے اور یہ عیدالفطر کے چند مہینوں بعد منائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا تہوار ہے جس کا ایک اہم تاریخی پس منظر ہے۔ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ بیچ کے زمانوں میں یہ قربانی نہیں کی جاتی تھی ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ  نے اس سنت کو زندہ کیا۔حضور پاک ﷺ دو دنبے اس موقع پرجانور ذبح کیا کرتے تھے ایک اپنی طرف سے اور ایک اپنی امت کی طرف سے۔

حضرت ابراہیمؑ سے یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا؟

حضرت ابراہیمؑ وہ نبی ہیں جن پر ساری امتوں کا اتفاق ہے۔ابراہیم ؑ بہت زیادہ رونے والے اور مہربان انسان تھے۔ ابراہیم کا مطلب بھی مہربان باپ ہے۔

حضرت ابراہیمؑ نے ایک خواب دیکھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا کہہ رہا ہے۔ پیغمبروں کو خواب جھوٹے  نہیں ہوتے۔ آپ نے اپنا خواب اپنے بیٹے کو سنایا تو حضرت اسماعیلؑ نے جواب دیا کہ ابو ! آپ مجھے اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔ آپ مجھے متزلزل نہیں دیکھیں گے اور مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔حضرت ابراہیمؑحضرت اسماعیل ؑ کو آبادی سے دور ایک جگہ لے گئے ۔لٹا کر چھری چلانے ہی والے تھے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا کہ آپ اس دُنبے کو ذبح کیجئے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی آزمائش تھی ۔ آپ نے وہ دُنبہ ذبح کیا ۔ بس اس دن سے صاحب حیثیت مسلمانوں ہر قربانی واجب کر دی گئی۔

مسلمان عید الاضحیٰ کی نماز عید گاہ میں پڑھتے ہیں اور نماز کے بعد عید مل کر قربانی شروع کر دیتے ہیں ۔ ہیاں ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نماز عید ست قبل قربانی نہیں ہوگی بلکہ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ صدقہ شمار ہو گا۔ قربانی کے لئے مسلمان اپنی حیثیت کے مطابو بھیڑ، دُنبہ، بکرا، گائے اور اُونٹ کی قربانی کرتے ہیں ۔ قربانی کا عمل تین دن تک جاری رہتا ہے۔ پہلے دن کی قربانی زیادہ افضل ہے۔ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک حصہ اپنا اور باقی دو رشتہ داروں اور غرباء کے لئے ہوتے ہیں۔ قربانی کے جانوروں میں اللہ بہت برکت دیتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے مسنون اعمال

۔عید الاضحیٰ کی رات میں طلب ثواب کے لئے بیدار رہنا اور عبادت میں مشغول رہنا سنت ہے۔

۔نماز عید الفطر سے پہلے کچھ کھجوریں کھانا اور عیدالاضحیٰ میں اگر قربانی کریں تونمازعیدالاضحیٰ سے پہلے کچھ نہ کھانا،نماز کے بعد اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھانا۔

۔ جس کا قربانی کا ارداہ ہو اس کو بقر عید کا چاند دیکھنے کے بعد جب تک قربانی نہ کر لے اس وقت تک خط نہ بنوانا اور نہ ناخن کتروانا مستحب ہے۔

قربانی پر ثواب

حضرت زید بن ارقم ؓ سے رایت ہے کہ صحابہ کرامؓ نے پوچھا،یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے(روحانی،نسبی) باپ ابراہیمؑ کا  طریقہ ہے،انہوں نے عرض کیا کہ ہم کو اس میں کیا ملتا ہے؟یا رسول اللہﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی،انہوں نے عرض کیا کہ اگر اون والا جانور ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر اون کے بدلے بھی ایک نیکی۔

اُمت کی طرف سے قربانی

حضرت ابو طلحہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے(ایک دُنبہ اپنی طرف سے قربانی کی اور) دوسرے دُنبہ کے ذبح میں فرمایا کہ یہ  (قربانی) اس کی طرف سے ہے جو میری امت میں مجھ پر ایمان لایا اور جس نے میری تصدیق کی ۔

 

importance of sacrifice

حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھی قربانی کیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔(ابوداؤد)

ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے (یعنی ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا جائے) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اس کو چاہئے کہ اب قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے۔(معارف الحدیث، صحیح مسلم)

حاصل کلام

بے شک قربانی کرنا ایک ایسی سنت  ہے جس سے پوری امت مسلمہ کی بھلائی ہوتی ہے۔ وہ مسلمان کو سارا سال غربت کی وجہ سے گوشت خرید کر نہیں کھاسکتے اس موقع پر خوش دلی سے کھاتے ہیں ۔ امیروں اور غریبوں کی آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات

س۱: مسلمان ایک سال میں کتنی عیدیں مناتے ہیں؟

ج:مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ عیدالفطر، عید الاضحیٰ

س۲:عیدالاضحیٰ کس دن منائی جاتی ہے؟

ج: عید الاضحیٰ ہر سال دس ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔

س۳:عیدالاضحی کتنے دنوں تک جاری رہتی ہے؟

ج: عید الاضحیٰ تین دن ۱۰ ذی الحجہ(نماز عید کے بعد) سے ۱۲ ذی الحجہ (نماز عصر) تک جاری رہتی ہے۔

Leave a Comment

Translate »