حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

آج یکم محرم الحرام ہے اور یہ تاریخ کا وہ غمناک دن ہے جس دن اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے تیرہ سال بعد 583ء میں ہوئی۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرہ سال اور حضرت ابوبکر صدیق سے اڑھائی سال چھوٹے ہیں۔

Islamic Calender

آپ کا رنگ مبارک اتنا سفید تھا ایسے لگتا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم میں خون ہی نہیں۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ کا لمبا قد بھاری جسم لال آنکھیں اور پتلے رخسار تھے۔۔۔آپ کی گھنی داڑھی مبارک اور مونچھوں کے بال دائیں اور بائیں جانب کافی بڑھے ہوۓ تھے اور ان میں بھورا پن تھا روایت ہے کہ جب آپ کو غصہ آتا تھا تو جلال میں آکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا کرتے تھے۔۔۔سیف اللہ حضرت خالد بن ولید حضرت عمر فاروق کے ہم شکل تھے۔۔۔
آپ کے والد کا نام خطاب تھا اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا اور ابو جہل کی چچازاد بہن تھیں۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ نکاح کیے تھے۔۔۔آپ کی ازواج کے نام درج ذیل ہیں.
(1)مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
(2) حضرت زینب بنت مظعون
(3) جمیلہ بنت ثابت
(4) ملیکہ بنت جرول یہ بیوی اسلام نہیں لائی اس لیے آپ نے اسے طلاق دے دی تھی
(5) قریبہ بنت ابو امیہ یہ بھی مشرکہ تھی اسے بھی طلاق دے دی تھی لیکن بعد میں یہ مسلمان ہوگئی تھیں اور حضرت امیر معاویہ کے ساتھ ان کا نکاح ہوا تھا
(6) ام حکیم بنت حارث
(7) عاتکہ بنت زید
(8) سعیدہ بنت رافع۔۔۔حضرت فکیہہ اور حضرت لہیعہ رضی اللہ عنہما یہ دونوں آپ کی باندیاں تھیں۔

ضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت سے کیا کیا رشتہ داری تھی؟

(1) سب سے پہلا رشتہ تو بہت ہی مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں تھیں اس کے لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عمر فاروق آپس میں سسر اور داماد لگے۔۔۔

(2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی والدہ “حنتمہ بنت ہاشم” اور ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپس میں چچازاد بہنیں ہیں لہذا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خالہ لگیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر فاروق کے خالو لگے اور حضرت عمر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھانجے لگے۔۔۔۔

(3) حضرت عمر کی بیوی “قریبہ بنت ابو امیہ” اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپس میں سگی بہنیں ہیں۔۔۔حضرت ام سلمہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہیں اور حضرت قریبہ بنت ابو امیہ حضرت عمر کی بیوی ہیں۔۔۔یوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عمر فاروق آپس میں ہم زلف ہوۓ جسے پنجابی میں سانڈو کہتے ہیں۔۔۔

(4) حضرت علی کی بیٹی حضرت ام کلثوم حضرت عمر فاروق کے نکاح میں تھیں اس رشتے کے لحاظ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کے نانا سسر لگے۔۔۔حضرت علی اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہما حضرت عمر کے ساس اور سسر لگے حضرت عمر ان کے داماد ہوۓ۔۔۔حضرت زینب اور امام حسن و حسین رضی اللہ عنہم حضرت عمر کے سالا اور سالی لگے اور ان کے بچوں کے ماموں اور خالہ ۔۔۔اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کے بہنوئی لگے۔۔۔۔۔۔

سبحان اللہ کیا قسمت ہے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی کہ ان کی کتنی ہی رشتہ داریاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت سے ملتی ہیں۔۔۔۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کون سی بیٹی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں؟ اور ان کا نام اور کب شادی ہوئی؟

جواب
حضرت ام کلثوم جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والی بیٹی ہیں, یعنی رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی بیٹی (نواسی) ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی قرابت حاصل کرنے کے لیے اپنے زمانہ خلافت میں سن ۱۷ ھ میں ان کا رشتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مانگا تو حضرت علی رضی اللہ نے بخوشی ان کو یہ رشتہ دے دیا، یوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار درھم مہر کی رقم مقرر کر کے ان سے نکاح کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد بن گئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ان سے ایک بیٹا زید بن عمر اور ایک بیٹی رقیہ بنت عمر پیدا ہوئی۔

صحيح البخاري (4/ 33):
“حدثنا عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال ثعلبة بن أبي مالك: إن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قسم مروطاً بين نساء من نساء المدينة، فبقي مرط جيد، فقال له بعض من عنده: يا أمير المؤمنين، أعط هذا ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك، يريدون أم كلثوم بنت علي، فقال عمر: «أم سليط أحق، وأم سليط من نساء الأنصار، ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم» [ص:34]، قال عمر: «فإنها كانت تزفر لنا القرب يوم أحد»، قال أبو عبد الله: “تزفر: تخيط”.

فتح الباري لابن حجر (6/ 80):
“قوله: يريدون أم كلثوم كان عمر قد تزوّج أمّ كلثوم بنت عليّ وأمّها فاطمة، ولهذا قالوا لها: بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكانت قد ولدت في حياته وهي أصغر بنات فاطمة عليها السلام”.

سير أعلام النبلاء ط الحديث (2/ 387):
“وخلفت (أي فاطمة الزهراء) من الأولاد: الحسن، والحسين، وزينب، وأم كلثوم. فأمّا زينب فتزوّجها عبد الله بن جعفر، فتوفيّت عنده وولدت له عونًا وعليًّا. وأمّا أمّ كلثوم فتزوّجها عمر، فولدت له زيدًا، ثمّ تزوّجها بعد قتل عمر عون بن جعفر فمات، ثمّ تزوّجها أخوه محمد بن جعفر، فولدت له بنته، ثمّ تزوّج بها أخوهما عبد الله بن جعفر، فماتت عنده. قاله الزهري”.

سير أعلام النبلاء ط الحديث (2/ 413):
“ذكر نسائه وأولاده: (نساء عمر بن الخطاب و أولاده) تزوّج زينب بنت مظعون، فولدت له عبد الله وحفصة، وعبد الرحمن. وتزوّج مليكة الخزاعية، فولدت له عبيد الله، وقيل: أمه وأم زيد الأصغر أمّ كلثوم بنت جرول.
وتزوّج أم حكيم بنت الحارث بن هشام المخزومية، فولدت له فاطمة.
وتزوّج جميلة بنت عاصم بن ثابت فولدت له عاصمًا.
وتزوّج أم كلثوم بنت فاطمة الزهراء وأصدقها أربعين ألفًا، فولدت له زيدًا ورقية.
وتزوّج لهية امرأة من المن فولدت له عبد الرحمن الأصغر.
وتزوّج عاتكة بنت زيد بن عمر بن نفيل التي تزوجها بعد موته الزبير”.

سير أعلام النبلاء ط الحديث (2/ 514):
“وقال يونس بن بكير: حدثني عليّ بن أبي فاطمة قال: حدّثني الأصبغ الحنظلي، قال: لما كانت الليلة التي أصيب فيها علي -رضي الله عنه- أتاه ابن النباح حين طلع الفجر، يؤذنه بالصلاة، فقام يشمي، فلما بلغ الباب الصغير، شدّ عليه عبد الرحمن بن ملجم، فضربه، فخرجت أمّ كلثوم فجعلت تقول: ما لي ولصلاة الصبح، قتل زوجي عمر صلاة الغداة، وقتل أبي صلاة الغداة”.

سير أعلام النبلاء ط الحديث (3/ 415):
” فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم:
سيدة نساء العالمين في زمانها، البضعة النبوية والجهة المصطفوية، أم أبيها، بنت سيد الخلق: رسول الله صلى الله عليه وسلم، أبي القاسم، محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف، القرشية الهاشمية، وأم الحسنين. … وكان لها من البنات: أمّ كلثوم زوجة عمر بن الخطاب وزينب زوجة عبد الله بن جعفر بن أبي طالب”.

سير أعلام النبلاء ط الحديث (4/ 479):
” أمّ كلثوم بنت علي بن أبي طالب بن عبد الملطب بن هاشم، الهاشمية، شقيقة الحسن والحسين، ولدت في حدود سنة ست من الهجرة، ورأت النبي صلى الله عليه وسلم، ولم ترو عنه شيئًا.
خطبها عمر بن الخطاب وهي صغيرة، فقيل له: ما تريد إليها؟ قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي”.
وروى عبد الله بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده: أنّ عمرk تزوجها، فأصدقها أربعين ألفًا.
قال أبو عمر بن عبد البر: قال عمر لعليّ: زوجنيها أبا حسن، فإني أرصد من كرامتها ما لايرصد أحد. قال: فأنا أبعثها إليك، فإن رضيتها فقد زوجتكها، يعتل بصغرها، قال: فبعثها إليه ببرد، وقال لها: قولي له: هذا البرد الذي قلت لك. فقالت له ذلك، فقال: قولي له: قد رضيت، رضي الله عنك … وروى نحوها ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن محمّد بن علي، مرسلاً. ونقل الزهري، وغيره: أنّها ولدت لعمر زيدًا، وقيل: ولدت له رقية”.

حضرت مولانا نافع صاحب رحمہ اللہ نے ’’رحماء بینھم‘‘(حصہ دوم) میں لکھا ہے:

’’علماء نے تصریح کردی ہے کہ یہ بابرکت نکاح ذو القعدہ ۱۷ ھ میں منعقد ہوا تھا اور اس کا مہر چالیس ہزار درھم مقرر ہوا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی ام کلثوم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد ہوئی، ایک لڑکا متولد ہوا، ان کا نام زید تھا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام رقیہ تھا، جوان ہونے کے بعد ابراھیم بن نعیم النخام عدوی سے اس کی تزویج ہوئی۔ اور بعض مؤرخین نے ایک اور لڑکی فاطمہ نامی بھی ذکر کی ہے، لیکن وہ مختلف فیہ ہے‘‘۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144109202423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ : پڑھئے

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  قبول اسلام سے قبل طیش میں تھے ۔ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے گھر سے نکلے ۔ نکلے نہیں بلکہ عرش والے نے نکالا ، عرش والا کیوں نہ نکالتا جب مراد اسکے اپنے محبوب کی تھی ۔ غصہ میں بہن کے گھر گئے کہ تم دونوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
بہن نے کلام کریم فرقان حمید سے چند آیات تلاوت کر کے سنائیں۔ عمر کے چٹانوں جیسا وجود پگھلنے لگا ۔ کہنے لگے پھر پڑھو ، پھر پڑھو ، بہن پڑھ رہی ہے عمر کے نصیبے پہ چھائے تاریکیوں کے سائے چھٹنے لگے ۔ زنگ اترنے لگا ۔ آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں۔
پھر دل دیار حبیب کی طرف لے چلا ۔ دستک دی ۔ اصحاب رخ ماہتاب کے گرد ستاروں کے سے جھرمٹ کی طرح مجلس سجائے بیٹھے تھے۔ دور مکی تھا ۔ کمزور تھے ۔ خوفزدہ تھے ۔ کواڑ کی اوٹ سے جھانکا تو عمر کھڑے ہیں۔ ننگی تلوار یے۔ پریشان ہو گئے ۔ حبیب خدا نے کہا عمر کو آنے دو ۔ یہ آیا نہیں بھیجا گیا ہے ۔
عمر فاروق نے اپنے آپ کو حضور کے قدموں میں سرنڈر کر دیا ۔ غلام بن گئے ۔ نماز کا وقت ہوا۔ وہیں نماز ادا کرنے لگے ۔ عمر نے میرے آقا حرم شریف میں کیوں نہیں۔۔

ہائے ۔۔۔۔ کیا کہتے میرے آقا دو جہاں کہ عمر تم ہی تو رکاوٹ تھے ۔ دھمکاتے تھے مسلمانوں کو ۔ مگر نہیں۔ حضور نے فرمایا عمر قریش والے نہیں پڑھنے دیتے ۔ عمر باہر نکلے ببانگ دہل اعلان کرنے لگے ۔ آ جاو جس نے بچے یتیم کروانے ہیں۔ جس نے بیوی کو بیوہ بنانا یے جس نے والدین کو جوانی کی موت کا دکھ دینا ہے ۔ ہم آج سے نماز حرم میں پڑھیں گے ۔
عمر ننگی تلوار تھے۔
اس ننگی تلوار نے اسلام کو پہلی تقویت اسلام قبول کر کے بخشی کے خوف کے بادل چھٹنے لگے ۔ اسلام بھی اخلاق کا داعی ہے مگر جہاں بات تلوار کی ہو تو فاروق اعظم سالار کو دیکھ لیں، حیدر کرار کو دیکھ لیں، سیف اللہ جرار کو دیکھ لیں۔ انکی تلواریں دشمن کے لیے قہر اور اسلام کے لیے مضبوط ترین سہارا بنیں۔
عمر وہ جو مراد نبی ، عمر وہ جس نے اسلام کو ابتداء میں سے ہی جلاء بخشی ، عمر وہ جو بارگاہ رسالت میں مشورہ دے عرش والا قرآن بنا کر بھیج دے۔ عمر وہ جو 26 لاکھ مربع میل تک اسلام کی حدوں کو پھیلانے والا ، عمر وہ عدل کا معیار ، عمر وہ جس کی ہیبت سے دشمن آج بھی لرزتا ہے ۔
عمر وہ جو جس کی حکومت کا وفاق مدینہ النبی میں مگر وہ نیل کے کنارے کسی مخلوق کے پیاسے مرنے پہ بھی غمزدہ ، عمر وہ جو دن کا 26 لاکھ مربع میل کا حکمران تھا مگر رات میں اپنی رعایا کا چوکیدار ،
عمر وہ جو اپنے ہی خادم اسلم کو کہہ رہا تھا اسلم آج تو بوجھ تم اٹھا کر آسانی بخش دو گے مجھے مگر روز محشر میرا بوجھ کون اٹھائے گا ۔
عمر وہ جس کو بشارت ملی کہ نبوت کا فریضہ اگر پھر سے اترتا تو انتخاب عمر ہوتے۔
عمر وہ جس کو آتا دیکھ کر اس وقت کے شیطان بھ راستہ بدل لیتے تھے اور آج کا شیطان بھی عمر کے نام سے تلملا جاتا ہے ۔
عمر وہ جو آقا دو جہاں کے پہلو میں کائنات کی سب سے خوبصورت اور بہترین مقام پر آرام فرما رہا ہے ۔۔

خاندان سیدنا عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ : پڑھئے

یکم محرم الحرام شہادت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ رض كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے نكل گيا۔
طبيب نے كہا:
اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجيے اسليے كہ آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اپنے بيٹے عبداللہ كو بلايا اور كہا:
ميرے پاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ۔ حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللہﷺ نے منافقين كے ناموں كى لسٹ بتائى تھى، جس كو اللہ، اللہ كے رسول اور حذيفہ كے علاوہ كوئى نہ جانتا تھا۔۔۔

حذيفہ رضى اللہ عنہ حاضر ہوئے تو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى اللہ عنہ گويا ہوئے جبكہ خون آپ كى پسليوں سے رس رہا تھا، حذيفہ! ميں تجھے اللہ كى قسم ديتا ہوں ، كيا رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے كہ نہيں؟
حذيفہ رضى اللہ عنہ روتے ہوئے كہنے لگے :
اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللہﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تك كسى كو نہيں بتا سكتا۔۔۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كہنے لگے: حذيفہ! بلاشبہ يہ رسول اللہﷺ كا راز ہے ، بس مجھے اتنا بتا ديجيے كہ رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين كے جدول ميں شمار كيا ہے يا نہيں؟
حذيفہ كى ہچكى بندھ گئى ، روتے ہوئے كہنے لگے: اے عمر! ميں صرف آپ كو يہ بتا رہا ہوں اگر آپ كے علاوہ كوئى اور ہوتا تو ميں كبھى بھى اپنى زبان نہ كھولتا، وہ بھى صرف اتنا بتاؤں گا كہ رسول اللہﷺ نے آپ كا نام منافقين كى لسٹ ميں شمار نہيں فرمايا۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے بيٹےعبداللہ سے كہنے لگے: عبداللہ اب صرف ميرا ايك معاملہ دنيا ميں باقى ہے۔۔۔ پِسر جانثار كہنے لگا: اباجان بتائيے وہ كون سا معاملہ ہے؟
سيدنا عمر رضى اللہ گويا ہوئے بيٹا، میں رسول اللہ اور ابوبكر رضى اللہ عنہ كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔

اے ميرے بيٹے! ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كے پاس جاؤ اور ان سے اجازت طلب كرو كہ عمر اپنے ساتھيوں كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہے۔۔۔ ہاں بيٹا، عائشہ رضى اللہ عنہا كو يہ نہ كہنا كہ امير المؤمنين كا حكم ہے بلكہ كہنا كہ آپ كا بيٹا عمر آپ سے درخواست گزار ہے۔۔۔
ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كہنے لگيں، ميں نے يہ جگہ اپنى قبر كے ليے مختص كر ركھى تھى، ليكن آج ميں عمر كے ليے اس سے دستبردار ہوتى ہوں۔۔۔

عبداللہ مطمعن لوٹے اور اپنے اباجان كو اجاز ت کا بتایا، سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے رخسار كو زمين پر ركھ ديا، آداب فرزندى سے معمور بيٹا آگے بڑھا اور باپ كى چہرے كو اپنے گود ميں ركھ ليا ، باپ نے بيٹے كى طرف ديكھا اور كہا اس پيشانى كو زمين سے كيوں اٹھايا۔۔۔۔
اس چہرے كو زمين پر واپس ركھ دو، ہلاكت ہوگى عمر كے ليے اگر اس كے رب نے اس كو قيامت كے دن معاف نہ كيا۔۔۔ ! رحمك اللہ يا عمر

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ بيٹے عبدأللہ كو يہ وصيت كركے اس دار فانى سے كوچ كر گئے:
جب ميرے جنازے كو اٹھايا جائے اور مسجد نبوى ميں ميرا جنازہ پڑھا جائے، تو حذيفہ پر نظر ركھنا كيونكہ اس نے وعدہ توڑنے ميں تو شايد ميرا حيا كيا ہو، لیکن دھيان ركھنا وہ ميرا جنازہ بھى پڑھتا ہے يا نہيں؟

اگر تو حذيفہ ميرا جنازہ پڑھے تو ميرى ميت كو رسول اللہﷺ كے گھر كى طرف لے كر جانا، اور دروازے پر كھڑے ہو كر كہنا : يا ام المؤمنين! اے مومنوں كى ماں، آپ كے بيٹے عمر كا جسد خاكي آيا ہے۔۔۔ ہاں يہاں بھي ياد ركھنا امير المؤمنين نہ كہنا عائشہ مجھ سے بہت حياء كرتى ہے۔۔۔ اگر تو عائشہ رضى اللہ عنہا اجازت مرحمت فرما ديں تو ٹھيك، اگر اجازت نہ ملے تو مجھے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفنا دينا۔

عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ كہتے ہيں ابا جان كا جنازہ اٹھايا گيا تو ميرى نظريں حذيفہ پر تھيں، حذيفہ آئے اور انھوں نے اباجان كا جنازہ پڑھا۔۔۔ ميں يہ ديكھ كر مطمعن ہوگيا، اور اباجان كى ميت كو عائشہ رضى اللہ عنہا كے گھر كى طرف لے كر چلے جہاں اباجان كے دونوں ساتھى آرام فرما تھے۔۔
دروازے پر كھڑے ہو كر ميں نے كہا: يا أمّنا، ولدك عمر في الباب هل تأذنين له؟
اماں جان! آپ كا بيٹا عمر دروازے پر كھڑا ہے، كيا آپ اس كو دفن كى جازت ديتى ہيں؟
اماں عائشہ رضى اللہ عنہا نے كہا: مرحبا ، امير المؤمنين كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارك ہو۔ رضى اللہ عنہم ورضوا عنہ

اللہ راضى ہو عمر سے جنہوں نے زمين كو عدل كے ساتھ بھر ديا ، پھر بھى اللہ سے اتنا زيادہ ڈرنے والے، اس كے باوجود كہ رسول اللہﷺ نے عمر كو جنت كى خوشخبرى دى۔

حضرت محمد ﷺ کےاخلاق : پڑھئے

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے چھوٹے چھوٹے واقعات

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص آپ سے ملنے مدینے کو چلا…. جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا۔۔ ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔۔ جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔

جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔ آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس شخص نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں ، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہرو میں آتا ہوں۔۔۔ آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔۔

آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں ،،،
سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا بادشاہ ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق اعظم ہے ) ۔۔۔
جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے ۔۔۔۔۔ وہ شخص ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں۔۔۔۔

جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا “امیر المومنین” کی سدا سن کر اس شخص کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں

خلیفہ دوم سیدنا عمرفاروقؓ کی فراست ۔۔

ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭِ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ’’ﺷﮑﺎﯾﺖ‘‘ ﮐﯽ ﮐﮧ: ’’ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﮍﮮ ﻣﮑﻮﮌﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ‘‘
ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ: ’’ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺭﻓﻊ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔‘‘
ﻭﮦ ﺗﻮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﻓﻊ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮔﻮﻧﺠﯽ: ’’ﺍﻣﯿﺮِ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﺎﻝ! ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﮭﺠﻮﺭ, ﺷﮩﺪ, ﺟﻮ، ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺩﻭ!‘‘
’’ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮ! ﺳﻨﻮ!
ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﯿﮍﮮ ﻣﮑﻮﮌﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡ –؟؟”

ﯾﮧ ﺳﻨﮩﺮﺍ ﺩﻭﺭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ فاروق رضی اللّٰہ عنہ ﮐﺎ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ.جہاں اس عورت کی بلاغت کی داد دینے کو جی چاہتا ہے تو خلیفۃ المسلمین کی فراست کو بھی سلام کرنے کے لیے بیتاب ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment

Translate »