عید الاضحیٰ کو قربانی کرنے کا طریقہ

حضرت  محمدﷺ عیدالاضحیٰ والے دن بہت احسن طریقے سے قربانی کرتے تھے اور یہ طریقہ امت مسلمہ کو بھی اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔

قربانی کا طریقہ

جب آپﷺ قربانی کے لئے بکری کو ذبح کرتے تو اپنا پاؤں اس کے مونڈھے پر رکھتے  پھر بسم اللہ کہتے اور ذبح کرتے۔

آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جب ذبح کریں تو اچھے انداز سے کریں یعنی چھری تیز ہو اور جلدی ذبح کریں۔

سنت کے مطابق قربانی کرنا

ابو داؤد میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ وہ عید گاہ میں آپﷺ کے ہمراہ حاضر ہوئے جب آپ ﷺ نے خطبہ مکمل کیا تو ایک مینڈھا لایا گیا اور اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیااور بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا اور فرمایاکہ یہ میری طرف سے اور یہ میری امت کے ہر اس آدمی کی جانب سے جس نے ذبح نہیں کیا صحیحین میں مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ عید گاہ میں نحر اور ذبح کیا کرتے تھے۔

مینڈھوں کی قربانی

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ قربانی کے دن یعنی ؑیدالاضحیٰ کے دن رسول اللہ ﷺ سیاہ سفیدی مائل سینگوں والے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی، جب آپ ﷺ نے ان کا رُخ صحیح یعنی قبلہ کی طرف کر لیا تو یہ دعا پڑھی:

Sacrifices of animals in Islam

ذبح کرتے وقت کی دعا

ترجمہ:میں نے اُس ذات کی طرف اپنا رُخ موڑا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اس حال میں کہ میں ابراہیمؑ حنیف کے دین پر ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔بے شک میری نماز اور میری عبادت اور میرا مرنا اور جینا سب اللہ کے لئے ہے۔جو رب العالمین ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمان برداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ یہ قربانی تیری توفیق سے ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔محمدﷺ اور اس کی امت کی طرف سے ، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔(احمد و ابو داؤد) (ابن ماجہ)

ذبح کرنے کے بعد کی دعا:

ذبح کرنے کے بعد یہ دعا ماثور ہے۔

 ترجمہ:اے اللہ اسے میری جانب سے قبول فرما لیجئے۔جیسے کہ آپ اپنے حبیب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور اپنے خلیل سیدنا ابراہیم ؑ کی قربانیاں قبول فرما چکے ہیں۔

اگر یہی دعا دوسرے کی طرف سے پڑھی جائے تو دعائے مذکور میں منی کی جگہ من پڑھے اور پھر اس کا نام لے۔

قرض لیکریا جو مقروض ہواس کا قربانی دینا

جسے قربانی کی وسعت و طاقت ہو وہی قربانی کرے اور جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتا اسے رخصت ہے اس لئے قربانی کی خاطر قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو ہمیشہ سے قربانی دیتے آرہے اچانک غریب ہوجائے یا قرضے میں ڈوب جائے اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور قرض کے بوجھ سے قربانی نہیں کرناچاہئے بلکہ فراخی ووسعت کے لئے اللہ سے دعا کرنا چاہئے ۔ اگر کوئی معمولی طور پرمقروض ہو،قرض چکانے اور قربانی دینے کی طاقت رکھتا ہو اسے قربانی دینا چاہئے ،اسی طرح اچانک عیدالاضحی کے موقع سے کسی کا ہاتھ خالی ہوجائے اور کہیں سے پیسے کی آمد کی آس ہواور ایسے شخص کو بآسانی قرض مل جائے تو قربانی دینا چاہئے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے مگر ہاتھ میں موجود نہیں ہے

ہدیہ میں دیا گیا قربانی کا جانور یا پیسہ

آج کل مالدار لوگ یا خیراتی ادارےجانور خرید کر یا اس کی قیمت مسکینوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی قربانی دے سکیں ایسی قربانی کا جانور یا پیسہ مساکین کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اللہ کی توفیق سے ہدیہ کرنے والے اور قربانی دینے والے دونوں کو اجر وثواب ملے گا۔نبی ﷺ نے بھی صحابہ کو قربانی عطا فرمائی ہے۔ عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا :

قَسمَ النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بين أصحابِهِ ضَحايا، فصارَتْ لِعُقبَةَ جَذَعَةٌ ، فقلت : يا رسولَ اللهِ ، صارت جَذَعَةٌ ؟ قال  ضَحِّ بها) .(صحيح البخاري:5547)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے ۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو قربانی کر لو ۔

حاجی کی طرف سے قربانی

حاجیوں کے اوپر عیدالاضحی کی قربانی ضروری نہیں ہے ،ان کے لئے حج کی قربانی ہی کافی ہے لیکن عیدالاضحی کی قربانی دینا چاہئے تو دے سکتا ہے ۔ یا ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ حاجی اپنے پیچھے گھروالوں کے لئے اتنا پیسہ چھوڑجائے تاکہ وہ لوگ قربانی دے سکیں ۔

“سوال و جواب “

سوال_ اونٹ اور گائے کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنے لوگ شریک ہو سکتے ہیں؟ اور اگر حصہ داروں میں سے کوئی شخص بے نماز یا مشرک ہو یا اسکی آمدن حرام کی ہو یا حصے داروں میں سے کسی ایک شخص کی قربانی کی بجائے صرف گوشت کی نیت ہو تو کیا اسکی وجہ سے باقی لوگوں کی قربانی بھی نہیں ہو گی؟

جواب
اگر اونٹ يا گائے كى قربانى ہو تو اس ميں ایک سے زائد لوگوں کا حصہ ڈالا جا سكتا ہے، ليكن اگر بكرى اور بھيڑ يا دنبہ كى قربانى كى جائے تو پھر اس ميں حصہ نہيں ڈالا جا سكتا،اور ايک گائے ميں سات حصہ دار شريک ہو سكتے ہيں اور ایک اونٹ میں سات یا دس لوگ بھی شریک ہو سکتے ہیں

صحابہ كرام رضى اللہ عنہم سے حج يا عمرہ كى ھدى ميں ايک اونٹ يا گائے ميں سات افراد كا شريک ہونا ثابت ہے،

امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:
” ہم نے حديبيہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ ايک اونٹ اور ايک گائے سات سات افراد كى جانب سے ذبح كى تھى ”
(صحيح مسلم حديث نمبر_1318 )

اور ابو داود كى روايت ميں ہے ،

جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں،
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہو جاتے،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2807)

جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:  گائے سات افراد كى جانب سے ہے، اور اونٹ سات افراد كى جانب سے ”
(سنن ابو داود حديث نمبر_ 2808 )
علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ صحیح مسلم كى شرح ميں رقمطراز ہيں:
” ان احاديث ميں قربانى كے جانور ميں حصہ ڈالنے كى دليل پائى جاتى ہے، اور علماء اس پر متفق ہيں كہ بكرے ميں حصہ ڈالنا جائز نہيں، اور ان احاديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ايك اونٹ سات افراد كى جانب سے كافى ہوگا، اور گائے بھى سات افراد كى جانب سے، اور ہر ايك سات بكريوں كے قائم مقام ہے، حتى كہ اگر محرم شخص پر شكار كے فديہ كے علاوہ سات دم ہوں تو وہ ايك گائے يا اونٹ نحر كر دے تو سب سے كفائت كر جائيگا ” انتہى مختصرا.

اور مستقل فتوى كميٹى سے قربانى ميں حصہ ڈالنے كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:
” ايك اونٹ اور ايك گائے سات افراد كى جانب سے كفائت كرتى ہے، چاہے وہ ايك ہى گھر كے افراد ہوں، يا پھر مختلف گھروں كے، اور چاہے ان كے مابين كوئى قرابت و رشتہ دارى ہو يا نہ ہو؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحابہ كرام كو ايك گائے اور ايک اونٹ ميں سات افراد شريک ہونے كى اجازت دى تھى، اور اس ميں كوئى فرق نہيں كيا ” انتہى.
(ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 401 )

گائے اور اونٹ میں سات سات لوگوں کے شریک ہونے کا اصول ہدی کے جانوروں کے لیے ہے، یعنی حاجی جو منی میں قربانی کرتے ہیں وہاں اونٹ ہو یا گائے سات سات لوگ ہی شریک ہو سکتے ہیں،لیکن عام جگہ پر جو قربانی کرتے ہم یہاں اونٹ کی قربانی میں دس لوگ بھی شریک ہو سکتے ہیں

جیسا کہ سنن ترمذی کی حدیث میں ہے!

سیدنا ابن عباس سے رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ شریک ہوئے اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-905)
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-3131)
اس حدیث کو امام (ابنِ حبان_4007)نے ”صحیح” اور امامِ حاکم نے ”امام بخاری کی شرط پر صحیح ”کہا ہے ، حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے،

لہذااس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ اونٹ کی قربانی میں دس افراد بھی شریک ہو سکتے ہیں

ایک سے زائد قربانیان کرنا جائز ہے اور اسی طرح بڑے جانور میں سات سے کم لوگ شریک ہو سکتے ہیں ،یعنی کوئی دو حصے رکھ لے یا تین رکھ لے مگر کوئی بھی سوا ،ڈیڑھ یا ڈھائی قربانی نہیں کر سکتا

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
“کیا اسلام نے عید کے دن قربانی کرنے کی تعداد مقرر کی ہے؟ اور کی ہے تو یہ کتنی تعداد ہے؟”
تو انہوں نے جواب دیا:
“اسلام میں قربانی کی تعداد کیلئے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو  قربانیاں کیا کرتے تھے، ایک اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے اور دوسری امت محمدیہ میں سے موحدین کی طرف سے، چ

چنانچہ اگر کوئی شخص ایک، یا دو ، یا اس سے بھی زیادہ قربانیاں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: “ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک بکری ذبح کرتے تھے، اور پھر اسی سے خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے، اس کے بعد لوگوں نے اسے فخر کا ذریعہ  بنا لیا”، خلاصہ یہ ہے کہ: اگر کوئی انسان اپنے گھر میں اپنی اور اہل خانہ کی طرف سے ایک ہی بکری ذبح کر دے تو اس طرح اس کا سنت پر عمل ہو جائے گا، اور اگر کوئی دو ، تین، چار،  یا گائے ، یا اونٹ کی قربانی کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔” انتہی
ماخوذ از ویب سائٹ شیخ ابن باز رحمہ اللہ
یعنی ایک بڑے جانور مثلا گائے، اونٹ میں سات قربانیاں ہوتی ہیں۔ سات افراد ایک ایک حصہ ڈال لیں یا پھر سات سے کم لوگ ہوں تو وہ قربانی کے اعتبار سے حصے اس طرح ڈالیں کہ ایک بندہ ایک حصہ، دو حصے یا تین حصے یا چار حصے یا پانچ حصے یا چھ حصے یا پھر پورا جانور یعنی چھ لوگ کر رہے ہیں تو ایک بندہ دو حصے ڈال لے اور باقی ایک ایک تاکہ کوئی حصہ ساتویں (1/7) سے کم نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ کوئی سوا، ڈیڑھ یا پونے دو قربانیاں نہیں کرے گا۔ جو بھی کرے مکمل ایک، دو یا اس سے زائد قربانیاں کرے۔ اسی طرح ایک بڑے جانور میں پانچ بندے حصہ ڈالیں تو ایک ایک تو سب کو مکمل قربانی آ جائے گی باقی دو سب پر تقسیم نہیں کی جائیں گی۔ ان دو کو کسی ایک کے ذمہ لگا دیں یا دو بندے دو دو کر لیں۔ اسی طرح ایک بڑے جانور کو دو بندے مل کر قربانی کریں تو ایک بندہ چار حصے کر لے ایک تین، ساڑھے تین تین نہیں کریں گے۔ المختصر یہ کہ جو بھی کرے مکمل قربانیاں کرے، ایک، دو یا زیادہ جتنی بھی،

گائے میں سات سے زیادہ اور اونٹ میں دس سے زائد حصے دار نہیں بن سکتے

سعودی مفتی شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ اپنی ویبسائٹ(islamqa) پر ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ،
کسی قربانی کرنے والے کیلیے ساتویں حصے سے کم حصہ جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی محض گوشت ہی حاصل کرنا چاہتا ہے قربانی  نہیں کرنا چاہتا تو پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ جتنا مرضی حصہ لے لے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ “أحكام الأضحية”  میں کہتے ہیں کہ:
“ایک بکری ایک شخص کی جانب سے قربانی میں کافی ہوگی، اور اسی طرح گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ  بھی ایک بکری کی طرح ایک شخص کی جانب سے قربانی میں کافی ہو گا۔۔۔

اور اگر [بکری کی] قربانی میں ایک سے زیادہ افراد مالک  ہوں تو پھر اس کی قربانی نہیں ہو گی، اونٹ اور گائے کی مشترکہ قربانی  میں سات سے زائد حصے دار شریک نہیں ہو سکتے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ قربانی عبادت  اور قرب الہی کا ذریعہ ہے چنانچہ اس عبادت کا طریقہ کار وہی ہو گا جو شریعت نے بتلایا ہے اس میں وقت، تعداد اور کیفیت ہر چیز کا خیال رکھا جائے گا” ختم شد
(“رسائل فقهية”_ص 58، 59)

اور اگر کوئی قربانی کرنے والا شخص ساتویں حصے سے بھی کم حصہ ملائے تو اس کی قربانی صحیح نہیں ہوگی، تاہم اس کی وجہ سے دوسروں کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ایک گائے میں ساتواں حصہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے ان میں سے کچھ قربانی کریں یا صرف گوشت حاصل کرنے کیلیے حصہ ڈال رہے ہوں

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” اونٹ يا گائے ميں قربانى كے ليے سات افراد حصہ ڈال سكتے ہيں، چاہے وہ سب ايك ہى خاندان سے تعلق ركھتے ہوں يا پھر مختلف خاندانوں سے، يا ان ميں سے بعض افراد صرف گوشت چاہے ہوں تو قربانى كرنے والے كى طرف سے قربانى ہو جائيگى، چاہے وہ قربانى نفلى ہو يا پھر نذر مانى ہوئى ہو، ہمارا يہى مسلك ہے، اور امام احمد رحمہ اللہ اور جمہور علماء كرام كا بھى يہى قول ہے ” انتہى.
ديكھيں: المجموع للنووى ( 8 / 372 )

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
اونٹ سات افراد كى جانب سے كافى ہے، اور اسى طرح گائے بھى اكثراہل اعلم كا قول يہى ہے…
پھر اس كے بعد اس كى دليل ميں كچھ احاديث ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں:
جب يہ ثابت ہو گيا تو پھر چاہے حصہ دار ايك ہى گھر سے تعلق ركھتے ہوں، يا پھر مختلف گھرانے سے تعلق ركھنے والے ہوں، يا پھر ان كى قربانى فرضى ہو يا نفلى، يا ان ميں سے بعض اللہ كا قرب حاصل كرنے والے ہوں، يا بعض افراد صرف گوشت حاصل كرنا چاہيں تو سب برابر ہيں؛ كيونكہ ان ميں سے ہر ايك انسان كى جانب سے اس كا حصہ كفائت كرے گا، اس ليے كسى كى نيت دوسرے كى نيت كو نقصان نہيں دےگى ” انتہى.
(ديكھيں: المغنى ابن قدامہ_ 13 / 363 )

نوٹ

اس سے یہ بھی پتا چلا کہ اگر کوئی بے نمازی،مشرک آدمی یا حرام کمائی والا شخص قربانی میں حصے دار ہے تو اسکی نیت یا اسکا عمل  باقیوں کی قربانی پر اثر انداز نہیں ہو گا،کیونکہ سب کی اپنی اپنی نیت ہے جس نے جس نیت سے یا جس مال سے قربانی کی ہے اللہ اسکو جانتا ہے،کچھ علماء کا یہ فتویٰ دینا کہ بے نماز یا مشرک یا حرام مال والے حصے دار سے باقیوں کی قربانی بھی ضائع ہو جائے گی یہ بات بے معنی اور بے دلیل ہے اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو کوئی بھی اجتماعی عبادت قبول نا ہو،۔۔۔ لہذا دلیل کے بنا ہم اس فتویٰ کو تسلیم نہیں کرتے،ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہتر ہے کہ تمام لوگ موحد اور نمازی پرہیزی قربانی میں شریک ہوں ،کیونکہ مشرک/بے نماز کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور اس لیے بھی تا کہ بے نماز اور مشرک کی حوصلہ شکنی ہو اور انکو دعوت ملے کہ انکے  برے عمل کی وجہ سے کوئی انکو قربانی میں بھی شریک نہیں کر رہا۔

سوال

قربانی کا جانور ذبح کرنا بہتر ہے، یا اس کی رقم غریبوں میں بانٹنا؟
جواب

“کعبہ کا طواف چھوڑ دو اور غریبوں کو تلاش کرو..” .
“غریب کو روٹی کھلانا ایک ہزار نفل سے بہتر ہے..”

“قربانی کی قیمت ادا کرنا قربانی کا جانور ذبح کرنے سے بہتر ہے”
” بھوکے انسان کے منہ میں نوالہ ڈالنا ، ایک ہزار مساجد کی تعمیر سے بہتر ہے”

آپ نے بھی اس طرح کے میسیجز پڑھے ہوں گے،
۔عیدالاضحیٰ کی آمد قریب ہے، لوگ قربانی کے جانور ذوق وشوق سے خرید رہے ہیں، اسلام کے اس عظیم شعار قربانی کی تیاریوں کو دیکھ کر دین دشمن عناصر جو اس طرح کے پیغامات پھیلاتے ہیں، ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور شرعی حیثیت کیا ہے؟
.غریب کو کھانا کھلانا، لباس فراہم کرنا، پانی پلانا، اس کی ضروریات کا انتظام کرنا ایک نیکی کا کام ہے. اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے. اسی طرح نماز پڑھنا، قربانی کرنا، حج ادا کرنا دین اسلام کی عظیم نیکیاں ہیں.
ایک نیکی کی ترویج وتشہیر کے لیے دوسری کسی نیکی کی تذلیل اور تحقیر صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو دوسری نیکی کا منکر ہو.

اگر کوئی شخص یہ کہے :
(ماں کو چھوڑو.. باپ کی خدمت کرو..
یتیم کی بجائے ایک غریب کو روٹی کھلاؤ.
بیوہ عورت کی کفالت سے بہتر ہے ایک غریب سٹوڈنٹ کو کتابیں لے دو.
مسکین مریض کے علاج سے بہتر ہے کہ مظلوم کی مدد کرو..) تو ہمیں اس کے جملے عجیب سے لگیں گے.. کیوں؟
اس لیے کہ وہ دو نیکیوں میں بلا وجہ موازنہ کرکے ایک کو چھوڑنے اور دوسری کو کرنے کی ترغیب دے رہا ہے.

2بعینہ اسی طرح یہ کہنا
غریب کو روٹی کھلانا ایک ہزار نفل سے بہتر ہے..
.. قربانی کی قیمت ادا کرنا قربانی کا جانور ذبح کرنے سے بہتر ہے
خواہ مخواہ ایک نیکی کی طرف داری ہے. اور دوسری نیکی کی بلاوجہ تحقیر،
آج کل سوشل میڈیا پر یہ فتنہ زوروں پر ہے، انسانی ہمدردی کی آڑ میں اسلامی شعائر اور عبادات کی توہین کی جاتی ہے. اور ہمارے سادہ لوح لوگ ایسے فتنہ پرور پیغامات کو بے سمجھی میں پھیلاتے جاتے ہیں.
بعض خاص حالات اور مجبوریوں میں کسی نیکی کی خاطر، دوسری نیک سے محرومی برداشت کرنا ایک الگ استثنائی مسئلہ ہے، اسی طرح بعض احادیث میں بطور ترغیب کچھ نیکیوں کو دوسری نیکیوں سے افضل قرار دیا گیا ہے. ان کے سامنے سر تسلیم خم ہے .
لیکن اس طرح ایک تحریک کے طور عبادات سے بے رغبتی پیدا کرنا اور غریب کی ہمدردی کا دم بھرنا ایک شیطانی وسوسہ ہے.

3⃣.طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس طرح کی پوسٹ اور ذہنیت کے لوگ بالعموم دیکھا گیا ہے دونوں نیکیوں ہی سے محروم ہوتے ہیں، انہیں غریب سے محبت ہوتی ہے نہ مسجد اور نماز سے الفت ، بس انہیں نامعلوم کیوں دین اور دین والوں سے خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے ہے اور بلاوجہ کی نفرت… جس کے اظہار کے لئے غریب کا کندھا استعمال کرتے ہیں. یعنی ان کا اصل مسئلہ حب علی نہیں بلکہ بغض معاویہ ہوتا ہے. (رضی اللہ عنہما اجمعین)
4⃣ اس کے برعکس نمازی حضرات ، حج وعمرہ کے شائقین ، عبادات کےساتھ ساتھ خیرات اور عطیات میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں. یہ دیندار لوگ رمضان المبارک میں افطاری کے دستر خوان لگاتے ہیں، عید الفطر کے موقع پر غریبوں کے گھر عید پیکیج پہنچاتے ہیں، اپنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور قربانی کے موقع پر اپنے مال سے جانور ذبح کرکے غریب کا پیٹ بھرنے کا انتظام کرتے ہیں، خود بھی کھاتے ہیں اور غریبوں کو کھلاتے ہیں. بعض اصحاب خیر تو ایسے بھی ہیں جو چار چار پانچ پانچ قربانیاں خرید کر وسیع پیمانے پر فقرا میں تقسیم کرتے ہیں. بلکہ اس سال ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر عبیدالرحمن بشیر کی سرپرستی میں مسجد رحمۃ للعالمین، اسلام آباد کے احباب قربانی کے گوشت سے سات ہزار لوگوں کے لیے دستر خوان لگانے کا پروگرام رکھتے ہیں.

5⃣ایک اہم سوال یہ بھی ہےکہ ایسے پیغامات میں بالعموم سیکولر، لبرل، ملحدین، اور گمراہ قسم کے لوگ صرف اور صرف نماز، اعتکاف حج عمرہ ، قربانی ، شعائر اسلام اور مساجد کی تعمیر ہی کو نشانہ کیوں بناتے ہیں؟ اور صرف انہی عبادات کا ہی آخر غریبوں کی ہمدردی سے موازنہ کیوں کرتے ہیں ؟؟ !!

ایسے کیوں نہیں کہتے کہ ہفتے میں دو بار گوشت خریدنے کی بجائے، ماہ میں ایک بار خریدیں اور باقی ماندہ رقم بچا کر مستحقین میں تقسیم کریں.
برگر، شوارما، پیزا، اور کولڈ ڈرنک کی قربانی دے کر ان کی قیمت فقرا کی ضروریات میں لگائیں.

یہ کیوں نہیں کہتے: سگریٹ چھوڑ دو …اور یومیہ اس آگ سے بچنے والی رقم غریبوں کو ادا کرو ؟؟

ہاں ایسے کیوں نہیں کہتے: شادی ہال اور مہنگی شادیاں چھوڑ دو اوراس سے بچت کردہ رقم فقرا پر خرچ کرو ؟
غریب سے ہمدردی کے لیے یوں بھی تو تبلیغ ہوسکتی ہے نا! ریزورٹس اور پکنک چھوڑ کر غریبوں کی داد رسی کرو ؟

عیش و آرام ، گانے ، فلمیں ، میوزیکل کنسرٹس، فرسٹ ائیر نائٹس جیسی بیہودہ رسمیں چھوڑ کر ان تقریبات سے رقم بچا کر کسی غریب بیٹی کا سہارا بنو!
ہماری عرض بس اتنی سی ہے کہ ہمیں اپنی عبادات سے لطف اندوز ہونے دیں، قربانی جیسی عظیم عبادت کے خلاف اندر چھپی دین بیزاری اور بھڑاس نکالنے کے لیے غریب کی ہمدردی کا جھوٹا سہارا مت لیں.. ہم جانتے ہیں تمہارے قبیلے کے کچھ لوگ تو سیون سٹار ہوٹلز میں غربت مٹانے کی میٹنگز کرتے ہیں، اور غریبوں کے لئے آمدہ ڈونیشنز پر بھی شب خون مارتے ہیں.
6⃣ یہ بات بھی ہر ذی شعور تسلیم کرے گا کہ ہر کام کا ایک موقع ومحل ہوتا ہے اس موقع پر وہی کام جچتا ہے.
نماز کے اوقات میں نماز، ڈیوٹی کے اوقات میں ڈیوٹی، بعض خاص حالات میں خاص امور ہی اہم قرار پاتے ہیں. آپ کے سامنے ایک انسان ڈوب رہا ہو تو اس وقت سب سے بڑی نیکی اس کی جان بچانا ہے، نماز کا وقت ہو تو اس وقت سب سے بڑی نیکی نماز کی ادائیگی ہی ہے. بس اسی طرح عید الاضحٰی کے مبارک ایام میں اہم ترین نیکی جانور قربان کرنا ہے. یاد رکھیں
قربانی والے دن کوئی شخص اس عظیم یادگار کی تحقیر کرتے ہوئے، کروڑوں روپے بھی صدقہ کردے تو اسے قربانی کاثواب حاصل نہیں ہوسکتا، اگر کوئی سونے کا محل بھی غریبوں میں بانٹ دے اور اس عظیم شعیرہ اسلام سے جان بوجھ کر از راہ تحقیر وتوہین رو گردانی کرے تو وہ رب کے احکام اور تقسیم کار کا منکر ہے.
قربانی ایک مستقل عبادت ہے، ایک ایسی عبادت جس کا تذکرہ رب کریم نے نماز کے ساتھ ملا کر کیا،
اور فرمایا
فصل لربک وانحر..
اپنے رب کی خاطر نماز پڑھو اور قربانی کرو..
قربانی کا جانور تو محض استعارہ ہے، اصل میں یہ پوری زندگی رب کے نام کردینے کا ایک معاہدہ ہے.
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ
کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے (الأنعام ،162)،
قربانی کے جانور بھی جب اللہ کے نام پر وقف ہوجاتے ہیں تو یہ محض گوشت خوری نہیں ہوتی، بلکہ دین کی علامت بن جاتے ہیں، دیکھیے ذرا ان جانوروں کا خالق رب کریم اپنے قرآن مجید میں ان جانوروں کا تذکرہ کس قدر محبت سے کرتا ہے، ارشاد ہے.
وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ ٭ۖ فَاذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہَا صَوَآفَّ ۚ فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُہَا فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ ؕ کَذٰلِکَ سَخَّرۡنٰہَا لَکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ. سورۃ الحج،آیت ﴿۳۶﴾
1. اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے،
2. تمہارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔
3.سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں،
4.پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ 5.اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ
6. اور مانگنے والے کو بھی۔ 7.اسی طرح ہم نے انھیں تمہارے لیے مسخر کردیا، تاکہ تم شکر کرو.
اس آیت مبارکہ میں غور کرتے جائیں اور قربانی کی تحقیر کرنے والوں کی عقل پر ماتم کرتے جائیں.

7⃣.قربانی جیسی عظیم عبادت میں روحانیت، خلوص، تاریخی یادگار، حکم الہی کی تعمیل، سنت کی برکات کے ساتھ ساتھ فقرا ومساکین کے ساتھ ہمدردی کی وہ شان پائی جاتی ہے کہ دین دشمن عناصر اس کا متبادل پیش کر ہی نہیں سکتے. کیونکہ قربانی ہے ہی، خیر، اس خیر کا ایک پہلو غریب پروری بھی ہے.
بالعموم قربانی کے جانور غریب لوگ پالتے ہیں، ان کو چارہ غریب ہی فراہم کرتے ہیں،منڈی میں لاکر بیچنے والے بھی غریب ہی ہوتے ہیں، ان کے ذبح کا اہتمام غریب قصاب کرتا ہے، ان کی لوڈنگ اور ٹریولنگ ایک غریب ڈرائیور کرتا ہے، کھالوں کو اتارنے کی مزدوری ایک غریب ہی کی جیب میں جاتی، ٹینڈری اور دباغت سے بھی ہمارے ہی متوسط طبقے کے لوگ وابستہ ہیں، غرضیکہ لاکھوں غریبوں کا روزگار قربانی جیسی عظیم عبادت سے جڑا ہوتا ہے. قربانی کے ایام میں بلا مبالغہ کروڑوں روپے کا بہاؤ ایک سادہ اور فطری طریقے سے غریب طبقے کی طرف ہوجاتا ہے.
اس لحاظ سے قربانی جیسی عظیم عبادت کو ترک کرنے کی ترغیب، دین دشمنی کے ساتھ ساتھ غریب دشمنی بھی ہے.

 قربانی کی کھالوں کا مصرف

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ:
’’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا‘‘
([ أخرجه البخاري كتاب الحج باب يتصدق بجلود الهدي، ومسلم كتاب المناسك باب من جلّل البدنة، وأحمد (1/79)، والدارمي(2/74)، من حديث علي رضي الله عنه، وانظر الإرواء(1161)۔ ])
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اونٹوں پر مقرر فرمایا اور حکم دیا کہ اونٹ سارے کا سارا تقسیم کردوں، گوشت، کھال اور جھول سب، اور اس میں سے کچھ بھی قصائی کو (بطور اجرت ) نہ دوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم قصائی کو پھر اپنی طرف سے اجرت دیتے تھے)۔
اس حدیث کی شرح میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ’’شرح زاد المستقنع‘‘ (7/514) میں فرماتے ہیں:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا: ’’ولا يبيع جلدها‘‘ یعنی ذبح کے بعد اس کی جلد نہ بیچےکیونکہ اس کے تمام اجزاء کا فی سبیل اللہ صدقہ ہونا متعین ہوچکا ہے۔ جو کوئی اللہ کے لیے متعین ہوجائے تو اس کا عوض لینا جائز نہیں۔ اس کی دلیل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نےاپنا گھوڑا کسی کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے دیا۔ لیکن وہ شخص اسے ضائع کرنے لگا اس کا کوئی اہتمام نہ کرتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اسے خریدنے کی اجازت چاہی اس گمان کے ساتھ شاید کہ اس کا مالک اسے سستے داموں فروخت کردے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’لا تشتره ولو أعطاكه بدرهم‘‘
(اسے نہ خریدنا اگرچہ وہ تجھے ایک درہم میں کیوں نہ دے)۔

صحیح بخاری 1490 کے الفاظ ہیں: ’’لَا تَشْتَرِي وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ‘‘

اسے نہ خرید اور اپنا کیا ہوا صدقہ واپس نہ لے، اگرچہ تجھے وہ ایک درہم میں کیوں نہ دے، کیونکہ اپنے دیے ہوئے صدقے کو واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کوئی قے (الٹی) کرکے اپنی ہی قے چاٹ لے۔

اس میں علت یہ ہے کہ اگر اس نے اسے اللہ تعالی کے لیے نکالا تھا۔ تو جو کچھ انسان اللہ کے لیے نکالے تو جائز نہيں کہ وہ اسے واپس لے۔ اسی لیے جائز نہيں کہ جو بلاد شرک سے ہجرت کرکے اس سے نکل جائے تو پھر واپس وہاں جاکر بسنے لگ جائے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالی کے لیے وہاں سے نکلا ہے جسے وہ محبوب رکھتا تھا تو وہ اس چیز کی طرف نہ جائے اگرچہ وہ اسے محبوب ہے جسے اس نے اللہ تعالی کے لیے ترک کیا ہے۔ اور کیونکہ کھال جانور کا جزء ہے اس میں گوشت کی طرح حیات کا دخل ہے۔(یعنی اسے بیچنا جائز نہیں جیسے گوشت کو بیچنا جائز نہیں)۔ اور یہ فرمانا: ’’ولا شيئاً منها‘‘ یعنی اس کے اجزاء میں سے کوئی بھی نہ بیچے جیسے جگر، سری، پائے، اوجھڑی وغیرہ۔ اور اس کی علت وہی ہے جو پہلے بیان ہوئی۔

فتویٰ کمیٹی ، سعودی عرب سے سوال ہوا:

قربانی کرنے والوں کا اپنے جانوروں کی کھالیں کسی بھی دائرہ حیات سے متعلق اصلاحی تنظیم یا کمیٹی کو ہبہ کرنا، ہدیہ کرنا یا صدقہ کرنا کیسا ہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں؟ اس سے فائدہ اٹھانے سے میری مراد ہے اس کو کسی مسلمان چمڑے کے تاجروں کو بیچ کر اس کے پیسوں سے فائدہ اٹھائیں پھر اس کی قیمت کو مصلیٰ ومساجد ، مدارس قرآن، اسلامی ریاض الاطفال، یا خدام مسجد کی تنخواہیں، یا جھاڑو وصفائی کا سامان،یا پھر قبرستان کے گرد باڑ لگانا یا دیگر اصلاحی کاموں میں لگانا جس کا فائدہ عام مسلمانوں کو ہو۔۔۔؟
جواب: سنت یہ ہے کہ قربانی کی کھالوں کو صدقہ کردیا جائے جیسا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ:
’’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا‘‘
([ أخرجه البخاري كتاب الحج باب يتصدق بجلود الهدي، ومسلم كتاب المناسك باب من جلّل البدنة، وأحمد(1/79)، والدارمي(2/74)، من حديث علي رضي الله عنه، وانظرالإرواء(1161)۔ ])
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اونٹوں پر مقرر فرمایا اور حکم دیا کہ اونٹ سارے کا سارا تقسیم کردو، گوشت، کھال اور جھول سب ، اور اس میں سے کچھ بھی قصائی کو (بطور اجرت) نہ دوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم قصائی کو پھر اپنی طرف سے اجرت دیتے تھے)۔
برابر ہے کہ جس پر صدقہ کیا جارہا ہے وہ بعینہ وہ شخص ہو یا کوئی ایسی جہت کی طرف سے ہو جس کا حکم شخصیت کا سا ہو کہ جس کے مصارف شرعی ہوں۔
وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء،فتوى رقم (15703)۔
رکن: بكر أبو زيد، رکن: عبد العزيز آل الشيخ، رکن: صالح الفوزان، رکن: عبد الله بن غديان،صدر:عبد العزيز بن عبد الله بن باز۔

ایک اور فتویٰ میں سوال کا مفہوم ہے کہ: مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیقات وفتویٰ، سعودی عرب سے ملیشیا کے مسلمانوں نے تفصیلی فتویٰ پوچھا جو تقریباً مندرجہ بالا سوال ہی تھا مگر کچھ دلائل بھی پیش کیے گئے کہ ترغیب وترہیب میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ بَاعَ جِلْدَ أُضْحِيَّتِهِ فَلَا أُضْحِيَّةَ لَهُ‘‘
([ صحیح ترغیب 1088۔ ])
(جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہیں)۔
کہا اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا صحیح الاسناد ہے۔ اور الحافظ کہتے ہیں اس کی اسناد میں عبداللہ بن عیاش القبانی المصری ہے جو کہ مختلف فیہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی کھالیں بیچنے سے منع فرمایاہے۔ سائل کہتا ہے پھر میں نے ’’فَلَا أُضْحِيَّةَ لَهُ‘‘ کے حاشیہ میں اس کا معنی دیکھا تو لکھا ہے کہ اسےاس کا ثواب نہيں ملے گا۔ (الکامل ص 156 ج 2 ط دار احیاء التراث العربی، بیروت)۔
مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والے اسے براہ راست فروخت نہیں کرتے بلکہ وہ تو صدقہ، ہبہ یا ہدیہ کرتے ہیں ان اسلامی تنظیموں کے کارکنوں کو پھر اس کی ملکیت انہیں منتقل ہوجاتی ہے اوروہ فروخت کرتے ہیں۔ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ قربانی کا گوشت کھاتے پیتے لوگوں کو بھی دیا جاسکتا ہے جبکہ یہ تنظیمیں اشخاص تو نہیں لیکن قانونی طور پر شخصیت کا سا ان کا حکم ہوتا ہے۔ جو کہ اس علاقے کے مسلمانوں کی نیابت کررہی ہوتی ہیں، اگر ہم انہیں نہ دیں گے تو یہ ضائع ہوجائیں گی کیونکہ فی زمانہ لوگوں میں اس کا کوئی خاص مصرف نہیں۔۔۔؟
جواب: اس استفتاء کے پڑھنے کے بعد کمیٹی یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اگر وہ اپنی قربانی کی کھال کسی فقیر یا اس کے وکیل کو دیتا ہے تو اس میں کوئی مانع نہيں وہ اسے بیچ کر ان پیسوں کا فقیرکو فائدہ دے۔ جسے بیچنے سے منع کیا گیا ہے وہ فقط خود قربانی کرنے والا ہے۔ اسی طرح سے خیراتی جمعیات وتنظیمیں جو کھالیں ان کے پاس جمع ہوں انہیں بیچ کر وہ پیسہ فقیروں کی فلاح وبہبود میں صرف کرسکتی ہے۔
اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء فتوى رقم (16411)۔
رکن: بكر أبو زيد، رکن: عبد العزيز آل الشيخ، رکن: صالح الفوزان، رکن: عبد الله بن غديان،نائب صدر: عبد الرزاق عفیفی، صدر:عبد العزيز بن عبد الله بن باز۔

شیخ زید بن محمد بن ہادی المدخلی رحمہ اللہ سے سوال ہوا: ہمارے یہاں عید الاضحیٰ کے موقع پر عام عادت پھیلی ہوئی ہے کہ وہ قربانی کی کھالیں مساجد کو دیتے ہیں یہ بات علم میں رہے کہ مسجد کمیٹی یا جمعیت کے اراکین کھالیں صدقہ کرنے والوں کو بتادیتے ہیں کہ عنقریب ہم ان کھالوں کو بیچ دیں گے اور پھر اسے مسجد کے مصالح میں صرف کریں گے۔ ا س عمل کا کیا حکم ہے؟ اب اگر یہ کھالیں بیچ دی جاتی ہيں پھر حاصل ہونے والے مال کو مسجد کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس عمل کا کیا حکم ہے؟ وجزاکم اللہ خیراً۔
جواب: قربانی کی کھالیں، قربانی کی کھالیں ہی ہیں یا تو ان سے قربانی کرنے والا فائدہ اٹھائے تو اسے اس کا حق حاصل ہے جیسا کہ گوشت کے کسی بھی جزء سے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یا پھر وہ اسے فقراء ومساکین پر صدقہ کردے۔ نہ اسے خود بیچے نہ کسی ایسی جہت میں دے کہ جو اسے بیچے۔ بلکہ براہ راست فقراء ومساکین کو دے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے اور اگر وہ خود بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔ اس مسئلے میں یہی قول راجح ہے۔

شیخ محمد بن علی فرکوس حفظہ اللہ سے سوال ہوا: ہم ایک دینی کمیٹی برائے تعمیر مسجد شہر س/بلعباس ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے مبارک موقع پر ہم محلے کے لوگوں سے قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں ۔ ہم پہلے ہی انہیں بتادیتےہیں کہ ہم یہ کھالیں بطور صدقہ ان سے لے رہےہیں جنہيں ہم بیچ کر مسجد کے مصالح میں لگائیں گے۔ کیونکہ کمیٹی کا کام یہی ہے کہ کھال جمع کرکے فروخت کی جائیں پھر اس پیسے کو مساجد کی تعمیر وغیرہ میں لگایا جائے۔ ہم سماحۃ الشیخ الفاضل سے سوال کرتے ہیں کہ آیا اس فعل میں کوئی شرعی مخالفت پائی جاتی ہے؟ وضاحت فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً۔ (دینی کمیٹی مسجد معاذ بن جبل، س/بلعباس)۔
جواب: الحمد لله ربّ العالمين والصلاة والسلام على من أرسله الله رحمة للعالمين، وعلى آله وصحبه وإخوانه إلى يوم الدين، أمّا بعد:
اس تصرف کا حکم اس اساس کی طرف لوٹتا ہے کہ آیا قربانی کی کھالیں بیچنا جائز ہے یا منع ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں۔ جو سب سے زیادہ ظاہر ہے وہ قربانی میں سے کسی بھی چیز کے بیچنے کا عدم جواز ہے، خواہ کھال ہو یا کچھ بھی۔ اور یہ امام مالک، الشافعی اور مشہور قول کے مطابق احمد کا، ابویوسف صاحب ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے کہ:
’’أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا‘‘

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اونٹوں پر مقرر فرمایا اور حکم دیا کہ اونٹ سارے کا سارا تقسیم کردو، گوشت، کھال اور جھول سب ، اور اس میں سے کچھ بھی قصائی کو (بطور اجرت ) نہ دوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم قصائی کو پھر اپنی طرف سے اجرت دیتے تھے)۔
اس لیے اس بارے میں کوئی تصرف نہيں کرنا چاہیے سوائے اس کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے مباح قرار دیا ہے یعنی اس کی کھال سے خود فائدہ اٹھائے اوراس سے جوتے بنالے، جراب بنالے، کوٹ و جیکٹ بنالے یا بیگ وغیرہ بنالے تو یہ وقف کی طرح کہلائے گا۔
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ خود اس بارے میں یہ تصرف کرنا اصلاً جائز نہیں تو کسی دوسرے کو بھی بطور نیابت مقرر کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ غایت وسائل کو صحیح قرار نہیں دے سکتی۔ لہذا ضروری ہے کہ مساجد کی تعمیروقیام جو کہ دو طہارتوں میں سے ایک ہے اور طہارت ایمانی کی بہن ہے بلکہ اسی سے پیدا ہوتی ہے کا اہتمام کیا جائے۔
اور علم تو اللہ کے پاس ہی ہے۔ وآخر دعوانا أن الحمد لله ربّ العالمين، وصلى الله على محمد وعلى آله وصحابه
ماخوذ از :مختلف علمائے کرام

 سوال:

قربانی کے گوشت کو فروخت کرنا کیسا ہے؟

قربانی کے جانور کو حدیث میں اضحیۃ اور ضحیۃ کہتے ہیں اور اس کی تعریف کچھ یوں بیان کی گئی ہے
(الاضحية والضحية اسم لما يذبح من الابل والبقر والغنم يوم النحر وأيام التشريق تقربا إلى الله)
اضحیہ اور ضحیہ اس اونٹ ، گائے اور بکری کو کہا جاتا ہے جسے عیدالاضحٰی اور ایام تشریق ، یعنی 11 ، 12، 13 ذی الحجہ کو قرب الہٰی کے حصول کے لیے ذبح کیا جاتا ہے ۔
اور قربانی کے من جملہ آداب میں ایک یہ بھی ہے کہ قربانی کا گوشت فروخت کرنا جائز ہے اور نہ چمڑہ بلکہ دونوں کو صدقہ کردینے کا حکم ہے ، یعنی اپنی ضرورت سے زائد گوشت کی خرید و فروخت منع اور حرام ہے ۔ صحیح مسلم میں ہے :
1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

(أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا فِى الْمَسَاكِينِ وَلاَ يُعْطِىَ فِى جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا.)

کہ نبی کریمﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کی قربانیوں کی نگرانی کروں اور یہ بھی حکم دیا کہ ان کا سارا گوشت ان کی کھالیں اور جھولیں صدقہ کردوں ، یعنی مسکینوں میں تقسیم کردوں اور قصاب کی مزدوری میں اس میں سے کچھ نہ دوں۔
الفاظ کے قدرے تھوڑے فرق سے کے ساتھ یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی مروی ہے:

2۔عن ابی سَعِيدٍ………انی أُحِلُّهُ لَكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا)

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے لیے قربانی کا گوشت حلال کرتا ہوں پس جتنا چاہو کھاؤ مگر ہدی اور قربانی کا گوشت فروخت نہ کرو کھاؤ اور صدقہ کرو۔

فتاویٰ محمدیہ
جلد :1 / صفحہ :612 /

سوال:

سوشل میڈیا پر ایک روایت گردش کر رہی ہے کہ قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔۔! کیا یہ روایت صحیح ہے ؟ مکمل تخریج بیان کریں؟

جواب:
سوال میں ذکر کردہ حدیث کہ ”قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی قربانی کرنے والے کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی۔۔یہ روایت تین طرح کے طرق سے مروی ہے مگر تینوں کے تینوں طرق ضعیف اور موضوع ہیں،جنکا ضعف بتلائے بغیر آگے پھیلانا یا بیان کرنا گناہ ہے اور یہ گناہ کرنے/ پھیلانے میں عبقری نامی پیج سر فہرست ہے جو اپنی پبلسٹی اور بزنس کے لیے من گھڑت وظائف،اور کمپیوٹرائزڈ عبادات شئیر کرتا رہتا ہے۔۔اللہ انہیں ہدایت دے آمین

پہلی روایت

امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا فَاطِمَةُ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ، وَقُولِي: إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ عِمْرَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً، فَأَهْلُ ذَاكَ أَنْتُمْ، أَوْلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً
ترجمہ: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! تم کھڑی ہو اور اپنی قربانی (کے جانور) کا مشاہدہ کرو کیونکہ اسکے خون کا پہلا قطرہ گرنے سے تمہارے گناہ جو تم نے کئے ہیں معاف ہو جائیں گے اور تم یہ کہو ”بیشک میری صلاۃ، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے“ عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آپ اور آپکی آل کے لئے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لئے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے ہے.
تخریج:
(معجم الکبیر للطبرانی: ١٨/٢٣٩، )
(معجم الاوسط للطبرانی: ٣/٦٩ (٢٥٠٩)
( الدعاء للطبرانی: ١/١٢٤٤ (٩٤٧)،
( مسند الرویانی: ١/١٣٤ (١٣٨)،
(مستدرک حاکم: ٤/٣٤٨ (٧٦٠٤)،
(سنن الکبریٰ للبیہقی: ١٩/٣٢٦ (١٩١٩١)
( شعب الایمان للبیہقی: ٩/٤٥٢ (٦٩٥٧)
(فضائل الاوقات للبیہقی، صفحہ: ١٠٨ (حدیث: ٢٥٥) (الکامل لابن عدی: ٨/٢٦٧)

اس حدیث کا مدار ابو حمزة الثُّمالی پر ہے اور وہ سعید بن جبیر سے روایت کرنے میں منفرد ہیں. ابو حمزة الثُّمالی کا نام ثابت بن ابی صفیہ دینار الثُّمالی ہے جو کہ ضعیف الحدیث ہے

🚫امام الذهبي (٧٤٨ هـ) المهذب ٨/٣٨٦٩ • میں کہتے ہیں إسناده واهٍ (یعنی اسکی سند بہت زیادہ کمزور ہے،

🚫علامہ الهيثمي (٨٠٧ هـ)، مجمع الزوائد ٢٠-٤ • میں فرماتے ہیں ،
فيه أبو حمزة الثمالي وهو ضعيف

🚫الذهبي (٧٤٨ هـ)، المهذب ٤/١٩٩٨ • فيه ثابت بن أبي صفية أبو حمزة الثمالي ضعيف جداً، وسعيد عن عمران منقطع و يروى عن عمرو بن قيس عن عطية العوفي أحد الضعفاء – عن أبي سعيد الخدري مرفوعاً نحوه

🚫امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ضعيف الحديث ليس بشيء

🚫اسی طرح یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ليس بشيء

🚫امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ضعیف. ومرۃ: متروك

🚫امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بثقة

(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں:
سؤالات البرقانی للدارقطنی: ٢٠،)
( الضعفاء والمتروکین للنسائی: ٦٩، )
(الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی: ١/١٥٨) (تہذیب الکمال للمزی: ٤/٣٥٧، )
(تہذیب التہذیب لابن ججر: ١/٢٦٤،)
( میزان الاعتدال للذہبی: ١/٣٦٣)

اسی طرح ابو حمزة الثُّمالی سے روایت کرنے والے دوسرے راوی نضر بن اسماعیل البجلی بھی ضعیف راوی ہیں

🚫یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ليس بشيء

🚫نسائی اور ابو زرعہ رحمہما اللہ کہتے ہیں: ليس بالقوى

(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں:
(میزان الاعتدال للذہبی: ٤/٢٥٥،)
( تہذیب الکمال للمزی: ٢٩/٣٧٢،)
( تہذیب التہذیب لابن حجر: ٤/٢٢١،)
( تقریب التہذیب لابن حجر: ٧١٣٠)

لہٰذا یہ حدیث ابو حمزة الثُّمالی اور نضر بن اسماعیل البجلی کی وجہ سے ضعیف ہے

🚫تنبیہ: امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اگرچہ صحیح کہا ہے لیکن یہاں ان سے سہو ہوا ہے. اسی لئے علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کا تعاقب کیا ہے، کہتے ہیں:
فيه أبو حمزة الثُّمالي، وهو ضعيف جدا
ترجمہ: اس کی سند میں ابو حمزة الثُّمالی ہے جو کہ سخت ضعیف ہے.

اس حدیث کے دو شواہد بھی ہیں، ان میں سے ایک حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور دوسری علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے لیکن دونوں احادیث سخت ضعیف ہیں بلکہ ان میں سے ایک (یعنی حدیث علی) موضوع ہے جنکی تفصیل آگے آ رہی ہے

دوسری روایت

حدیث ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ – لِفَاطِمَةَ (عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ): قُومِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا يُغْفَرُ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبُكَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ خَاصَّةً أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟، قَالَ: بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً
ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! تم اپنی قربانی (کے جانور) کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اسکا مشاہدہ کرو (یعنی قربان ہوتے ہوئے دیکھو) کیونکہ اسکے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے. فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ہم اہل بیت لئے خاص ہے یا ہمارے اور عام مسلمانوں کے لئے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ یہ ہمارے اور عام مسلمانوں کے لئے ہے.

(اس کو امام حاکم رحمہ اللہ نےمستدرک حاکم: ٤/٣٤٨ (٧٦٠٥) میں) (ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے علل الحدیث: ٤/٤٩٥ میں)
(اور امام عقیلی رحمہ اللہ نےالضعفاء الکبیر: ٢/٣٧ میں) «داود بن عبد الحميد عن عمرو بن قيس الملائي عن عطية عن أبي سعيد الخدري رضي اللّه عنه» کے طریق سے نقل کیا ہے

🚫اس سند میں دو علتیں ہیں:

1_ عطیہ یہ ابن سعد الکوفی ہے اور یہ ضعیف راوی ہے.
(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں:
(تہذیب الکمال للمزی: ٢٠/١٤٥،)
( سیر اعلام النبلاء للذہبی: ٥/٣٢٥،)
( میزان الاعتدال للذہبی: ٣/٧٩،)
( تہذیب التہذیب لابن حجر: ٣/١١٤)

2_ داؤد بن عبدالحمید.
ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
حديثه يدل على ضعفه

🚫عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
روى عن عمرو بن قيس الملائي أحاديث لا يتابع عليها، منها: عن الملائي عن عطيةعن أبي سعيد يا فاطمة قومي إلى أضحيتك فاشهديها

🚫الألباني (١٤٢٠ هـ)، السلسلة الضعيفة ٦٨٢٨ • ضعيف

🚫ابن الملقن (٧٥٠ هـ)، البدر المنير ٩/٣١٣ • ضعيف

(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں:
میزان الاعتدال للذہبی: ٢/١١،)
( المغنی فی الضعفاء للذہبی: ١/٣١٩، )
(لسان المیزان لابن حجر: ٣/٤٠٣)

🚫امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق اپنے والد محترم ابو حاتم رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ حدیث منکر ہے.
(علل الحدیث لابن ابی حاتم: ٤/٤٩٥)

لہٰذا یہ حدیث اس سند سے سخت ضعیف ہے

تیسری روایت

📚حدیث علی رضی اللہ عنہ:
[عن علي بن أبي طالب:] يا فاطِمةَ ! قُومِي فاشْهَدِي أُضْحِيَتَكِ؛ فإِنَّ لكِ بِأوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ من دَمِها مَغفِرةً لِكُلِّ ذَنْبٍ، أما إِنَّه يُجاءُ بِدَمِها ولِحْمِها فيُوضَعُ في مِيزانِكَ سَبعِينَ ضِعفًا فقال أبو سَعيدٍ: يا رسولَ اللهِ ! هذا لِآلِ مُحمدٍ خاصَّةً؛ فإِنَّهمْ أهْلٌ لِما خُصُّوا به من الخَيرِ، أو لِآلِ مُحمدٍ ولِلمُسلِمينَ عامَّةً؟
قال: لِآلِ مُحمدٍ خاصَّةً، ولِلمسلِمينَ عامَّةً
حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا اے فاطمہ تو اپنی قربانی کے پاس حاضر رہ، بے شک اسکے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے، بے شک وہ لایا جائے گا(قیامت کے دن) اپنے خون اور گوشت کے ساتھ اور رکھا جائے گا تمہارے میزان میں ستر گنا (بڑھا کر)ابو سعید خدری رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ آل محمد کے لیے خاص ہے بے شک وہ اسکے اہل ہیں جو انکو خصوصیت ملی ہے خیر کے ساتھ،
یا یہ آل محمد اور عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ آل محمد کا خاصہ بھی ہے اور عام مسلمانوں کے لئے بھی ہے،

(اس کو عبد بن حمید نے اپنی مسند (المنتخب): ١/١١٩ ٧٨) میں) ( امام بیہقی رحمہ اللہ نے سنن الکبریٰ: ١٩/٣٢٦ (١٩١٩٠) میں( اور امام ابو قاسم اصبہانی رحمہ اللہ نے الترغیب والترھیب: ١/٢٤١ (٣٥٥) میں «سعيد بن زيد أخي حماد بن زيد عن عمرو بن خالد عن محمد بن علي عن آبائه عن علي رضي اللّه عنه»کے طریق سے مرفوعا بیان کیا ہے)

🚫یہ حدیث اس سند سے موضوع ہے.کیونکہ اس میں ایک راوی عمرو بن خالد (ابو خالد القرشی) ہے. اس پر سخت جرح کی گی ہے. کئی محدثین نے اسے کذاب کہا ہے.
(مزید تفصیل کے لئے دیکھیں:
(تہذیب التہذیب لابن حجر: ٣/٢٦٧، )
(تہذیب الکمال للمزی: ٢١/٦٠٣)

🚫امام الذهبي (٧٤٨ هـ) المهذب ٨/٣٨٦٨ •
میں فرماتے ہیں، کہ
فيه عمرو كذاب ( اس میں عمرو کذاب راوی ہے

🚫علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو منکر کہا ہے.
(ضعیف الترغیب: ٦٧٤)

🚫الألباني (١٤٢٠ هـ)،
(السلسلة الضعيفة ٦٨٢٩ • موضوع )

لہذا قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ گرنے سے مغفرت والی تینوں روایات ہی صحیح سند سے ثابت نہیں

مآخذ محدث فورم
(تخریج از عمر اثری)

سوال

اگر قربانی کا جانور خریدنے یا متعین کرنے کے بعد اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو کیا اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب.

اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے،کچھ علماء کہتے ہیں،کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح حکم ہے کہ عیب والے جانور کی قربانی نہیں ہو گی،لہذا وہ عیب پہلے سے ہو یا خریدنے کے بعد تو اس جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی

لیکن جب ہم صحابی رسول اور سلف صالحین کے اقوال کو دیکھتے ہیں، تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ،جب انسان قربانى كا جانور متعين كر دے یا خرید لے اور پھر اس ميں بغير كوتاہى كيے خود بخود ہى كوئى عيب پيدا ہو جائے اور قربانى كے وقت اسے ذبح كر ديا جائے تو اس كى قربانى ادا ہو جائے گی ان شاءاللہ

س كى دليل بيھقى كى درج ذيل حديث ہے:
سیدنا عبداللہ بن زبير رضى اللہ تعالى عنہما كى قربانيوں ميں ايك كانى اونٹنى آئى تو انہوں نے فرمايا:
ان کان أصابہا بعد ما اشتریتموہا فامضوہا وان کان أصابہا قبل أن تشتروہا فأبدلوہا
” اگر تو اسے يہ عيب تمہارے خريدنے كے بعد پيدا ہوا ہے تو پھر اسے قربانى كے جانوروں ميں ہى رہنے دو، اور اگر خريدنے سے قبل تھا تو اس كو تبديل كر دو ”
(السّنن الکبریٰ للبیہقي : ٩ج/ص289 وسندہ، صحیحٌ)
امام نووى رحمہ اللہ نے المجموع ( 8ج / 363 ) ميں اس كى سند كو صحيح كہا ہے

امامِ زہری فرماتے ہیں :
اذا اشتری رجل أضحیۃ فمرضت عندہ أو عرض لہا مرض فہی جائزۃ،
جانور خریدنے کے بعد بیمار ہو جا ئے تو قربانی جائز ہے۔”
(مصنّف عبدالرّزاق : ٤/٣٨٦ ، ح: 8161 ، وسندہ، صحیحٌ

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” جب قربانى ہر قسم كے عيوب سے سليم حاصل كر لى جائے اور پھر اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے جو اس كے مانع عيوب ميں شامل ہوتا ہو تو وہ اسے ذبح كرے تو اس كى قربانى ہو جائيگى، عطاء، حسن، نخعى، زھرى، ثورى، مالك، شافعى، اسحاق رحمہم اللهم سے يہى مروى ہے” انتہى.
ديكھيں:
(المغنى ابن قدامہ_13 / 373 )

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ ”
احكام الاضحيۃ ” ميں قربانى كا جانور متعين كرنے كے بعد اس پر مرتب ہونے والے احكام كا ذكر كرتے ہوئے لكھتے ہيں:
” جب اس ميں كوئى ايسا عيب پيدا ہو جائے جو قربانى كرنے ميں مانع ہو تواس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:
يہ عيب اس كے فعل يا پھر كوتاہى كى بنا پر پيدا ہوا ہو تو اس صورت ميں اس جانور كو تبديل كرنا واجب ہے، اور مكمل اسى طرح كى صفات كا حامل جانور حاصل كرنا ضرورى ہے يا اس سے بہتر؛ كيونكہ وہ عيب اس كى وجہ سے پيدا ہوا ہے اس ليے اسے اس كے بدلے اسى طرح كا جانور ذبح كر كے نقصان پورا كرنا ہوگا، اور صحيح قول كے مطابق وہ عيب دار جانور اس كى ملكيت ہو گا وہ اسميں جو چاہے تصرف كر سكتا ہے چاہے اسے فروخت كرے يا نہ كرے.

دوسرى حالت:
اس ميں عيب اس كى وجہ سے پيدا نہ ہوا ہے اور نہ ہى اس كى كوتاہى كى بنا پر ہو تو وہ اسے ذبح كردے تو قربانى ہو جائيگى، كيونكہ وہ اس كے پاس امانت تھى اور اس ميں اس كى كوتاہى كے بغير ہى عيب پيدا ہوا ہے تو اس ميں كوئى حرج اور ضمان نہيں ہوگى ” انتہى.

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:
” اور جب قربانى كا جانور خريدے اور ذبح كرنے سے قبل اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے تو علماء كرام كے ايك قول كے مطابق وہ اسے ذبح كر لے ” انتہى.
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 26 / 304 )

نوٹ_ہمیشہ کی طرح بہتر و افضل طریقہ احتیاط ہی کا ہے، کہ اگر کسی کے قربانی والے جانور میں عیب پیدا ہو جائے تو وہ تبدیل کر لے

لیکن اگر کسی کے پاس دوسرا جانور خریدنے کی گنجائش نہیں یا وہ وہ تبدیل نہیں کرتا تو صحابی رسول ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہما اور سلف صالحین کے صحیح قول کے مطابق وہ اسی جانور کو ذبح کر سکتا ہے اور اسکی قربانی ہو جائیگی ان شاءاللہ

Leave a Comment

Translate »