عرب کا محل وقوع

 

عرب کے لغوی معنی

لفظ عرب کے لغوی معنی ہیں صحرا اور بے آب و گیاہ زمین۔ عہد قدیم سے یہ لفظ جزیرہ نمائے عرب اور اس میں بسنے والی قوموں پر بولا گیا ہے۔ عرب کے مغرب میں بحر احمر اور جزیرہ نمائے سینا ہے۔ مشرق میں خلیج عرب اور جنوبی عراق کا ایک بڑا حصہ۔ جنوب میں بحر عرب ہے جو درحقیقت بحر ہند کا پھیلاؤ ہے۔ شمال میں ملک شام اور کسی قدر شمالی عراق ہے۔ ان میں سے بعض سرحدوں سے متعلق اختلاف بھی ہے۔

عرب کا کل رقبہ

عرب کا کل رقبے کا اندازہ ۱۰ لاکھ سے ۱۳ لاکھ مربع میل تک کیا گیا ہے۔

map of Arab

جغرافیائی حیثیت

جزیرۂ نمائے عرب طبعی اور جغرافی حیثیت سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اندرونی طور پر یہ ہر چہار جانب سے صحرا اور ریگستان سے گھرا ہوا ہے جس کی بدولت یہ ایسا محفوظ قلعہ بن گیا ہے کہ بیرونی قوموں کے لئے اس پر قبضہ کرنا اور اپنا اثرو نفوز پھیلانا سخت مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ قلب جزیرۃالعرب کے باشندے عہد قدیم سے اپنے معاملات میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایسی دو عظیم طاقتوں کے ہمسایہ تھے کہ اگر یہ ٹھوس قدرتی رکاوٹ نہ ہوتی تو ان کے حملے روک لینا باشندگان عرب کے بس کی بات نہ تھی۔

بیرونی طور پر جزیرہ نمائے عرب پُرانی دیا کے تمام معلوم برّ اعظموں کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ اور خشکی اور سمندر دونوں رستوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا شمال مغربی گوشہ، برّ اعظم افریقہ میں داخلے کا دروازہ ہے۔ شمالی مشرقی گوشہ یورپ کی کنجی ہے۔ مشرقی گوشہ ایران، وسط ایشیا اور مشرق بعید کے دروازے کھولتا ہے اور ہندوستان اور چین تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح ہر برّاعظم سمندر کے رستے بھی جزیرۂ نمائے عرب سے جڑا ہوا ہے اور ان کے جہاز  عرب بندر گاہوں پر براہ راست لنگر انداز  ہوتے ہیں۔ 

جغرافیائی اہمیت

اس جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے جزیرۃ العرب کے شمالی اور جنوبی گوشے مختلف قوموں کی آماجگاہ اور تجارت و ثقافت اور فنون و مذاہب اور لین دین کا مرکز رہ چکی ہے.

(الرحیق المختوم)

Leave a Comment

Translate »