روزے کے آداب و حقیقت

 

 

حقیقی روزے کے لئے، جو اعضاء کو گناہوں سے روکتا ہے،چھ آداب ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔

۔نگاہ کا روزہ

پہلا ادب یہ ہے کہ نظر نیچی رکھو۔ جن چیزوں کی طرف نگاہ ڈالنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، ان کی طرف نگاہ نہ جانے دو۔ جن چیزوں کو دیکھنے سے دل بھٹکتا ہو اور اللہ کی یاد سے غفلت طاری ہوتی ہو،ان کو نہ دیکھو۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا، نظر ڈالنا(ایسی چیزوں پر جن سے اللہ نے روکا ہے۔) شیطان کے تیروں میں ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے۔ جو اللہ کے خوف سے نگاہ بد سے رک جائے،اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان کی حلاوت کا مزا عطا کرے گا۔

پانچ چیزوں سے روزہ ٹوٹنا

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پانچ چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک جھوٹ،دوسری غیبت، تیسر ی چغلی،چوتھی جھوٹی قسم اور پانچویں شہوت کی نظر

importance of fasting

۔زبان کا روزہ

دوسرا ادب یہ ہے کہ زبان سے بے ہودہ بات نہ کرو، جھوٹ نہ بولو،غیبت نہ کرو،چغلی نہ کھاؤ، فحش گفتگو نہ کرو، ظلم کی بات نہ کرو، جھگڑا نہ کرو،بات نہ کاٹو۔ زبان کا روزہ یہ ہے کہ خاموش رہے،ان گناہوں سے بچے اور اسے اللہ کی یاد اور تلاوت قرآن پاک میں مشغول رکھے۔

غیبت سے رکنا

ایک حدیث میں ہے کہ حضور پاک ﷺ کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا۔دن گزرنے کے ساتھ ،بھوک اور پیاس کی شدت سے حالت خراب ہو گئی۔ انہوں نے حضور پاک ﷺ کی خدمت میں آدمی بھیجا اور افطار کی اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے اس آدمی کو پیالہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ ان دونوں سے کہنا کہ جو کچھ تم نے کھایا ہے اس پیالے میں قے کر دو۔ ایک عورت نے قے کی تو آدھا پیالہ تازہ گوشت اور خون سے بھر گیا،دوسری نے قے کی تو پیالہ پورا بھر گیا۔ لوگوں کو بہت تعجب ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں نے اس غذا سے تو روزہ رکھا جو اللہ نے حلال کی ہے،اور جو چیز حرام کی ہے اسے کھاتی رہیں۔ ایک دوسرے کے پاس بیٹھیں تو دونوں نے لوگوں کی غیبت شروع کر دی۔ دونوں نے لوگوں کا جو گوشت کھایا تھا، وہی گوشت پیالے میں ہے۔

۔کان کا روزہ

تیسرا ادب یہ ہے کہ کانوں کو بری بات سننے سے روکو۔ اس لئے جن باتوں کا زبان سے نکالنا حرام ہے، ان کا سننا بھی حرام ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کانوں سے جھوٹ سننے والوں اور حرام کا مال کھانے والوں کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا ہے۔ترجمہ: یہ کان لگا کر جھٹ سننے والے اور حرام کا مال کھانے والے۔(المائدہ۴۲:۵)

حرام بات سننے سے رکنا

اسی طرح ایک جگہ یہ بھی ارشاد فرمایا ۔ترجمہ: کیوں ان کے علما اور مشائخ انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے۔( المائدہ،۶۳:۵)غیبت سننا اور خاموش رہنا بھی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر تو تم بھی انھی کی طرح ہوئے۔

اسی لئے حضور پاک ﷺ نے فرمایا، غیبت کرنے والا اور سننے والا دونوں گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔

۔اعضاء کا روزہ

چوتھا ادب یہ ہے کہ ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء کو گناہوں سے روکو، اور افطار کے وقت ایسے کھانے سے بچو جس کے بارے میں حرام ہونے کا شبہ بھی ہو۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

حرام کھانے سے رکنا

بعض کہتے ہیں کہ یہ وہ روزہ دار ہے جو حرام کھانے سے روزہ افطار کرے۔ بعض نے کہا کہ وہ شخص مراد ہے جو روزے کے دوران طعام حلال سے رکا رہا لیکن لوگوں کا گوشت کھاتا رہا، یعنی غیبت کرتا رہا جو حرام ہے۔ اور بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اپنے اعضاء کو گناہ سے نہ بچائے۔

۔رزق حلال

پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت بھی حلال کھانا کم کھاؤ۔اتنا نہ کھاؤ کہ  پیٹ پھول جائے۔ اس لئے کہ اللہ کے نزدیک حلق سے بھرے ہوئے پیٹ سے زیادہ نا پسندیدہ کوئی بھر جانے والی چیز نہیں،اگرچہ کھانا حلال ہو۔ 

۔خوف و رجا

چھٹا ادب یہ ہے کہ روزہ افطار کرنے کے بعد خوف و رجا کی کیفیت طاری ہو۔ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کا روزہ قبول فرمائے گا اور اسے مقربین میں شامل کرے گا۔ساتھ ہی ڈرے کہ شاید اس کا روزہ قبول نہ کیا جائے اور وہ اللہ کے غضب کا مستحق ٹھہرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عبادت سے فارغ ہونے کے بعد یہی کیفیت ہونی چاہئے۔

حاصل کلام

یہ روزے کے وہ چھ آداب ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنے سے ہی روزہ حقیقی معنوں میں صحیح ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، روزہ ایک امانت ہے۔ ہر ایک کو اپنی امانت کی حفاظت کرنی چاہئے۔

Leave a Comment

Translate »