حضرت محمد ﷺ کےاخلاق

 آج ہم جانیں گے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کے اخلاق کیسے تھے اور ہم بطور آپ ﷺ کے امتی کس طرح آپ ﷺ کی اسوۂ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کو گزاریں  تا کہ دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔

فصاحت و بلاغت

ہمارے پیارے نبی ﷺ فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے۔ آپ ﷺ طبیعت کی روانی، الفاظ کے نکھار، فقروں کی جزالت اور تکلف سے دوری کے ساتھ ساتھ جوامع الکلم(جامع باتوں) سے نوازے گئے تھے۔  آپﷺ  کو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا علم عطا ہوا تھا چنانچہ آپ ﷺ ہر قبیلے سے اسی کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے۔  بردباری ، قوت برداشت، قدرت پانے کے باوجود درگزر کرنا اور مشکلات پر صبر آپ ﷺ کے اعلیٰ اوصاف تھے۔ ان اوصاف کے ذریعہ اللہ نے آپﷺ کی تربیت کی تھی۔

ہر حلیم اوربُردبار  کی کوئی نہ کوئی لغزش جانی جاتی ہے مگر ہمارے پیارے نبیﷺ کی بلندیٔ کردار کا عالم یہ تھا کہ آپﷺ کے خلاف دشمنوں کی ایذا رسانی ، خود سری اور زیادتی جس قدر بڑھتی گئی آپﷺ کے صبرو تحمل میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔

سخاوت

آپ ﷺ سب سے بڑھ کر غیظ وغضب سے دور تھے۔ اور سب سے جلد راضی ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ میں سخاوت کا وصف ایسا تھا کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ نبی حضرت محمدﷺ سب سے بڑھ کر سخاوت کرنے والے تھے۔ اور آپ ﷺ کی سخاوت رمضان المبارک میں اس وقت اور بھی بڑھ جاتی جب حضرت جبرائیل علیہ السلام  آپ ﷺ سے ملاقات فرماتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام رمضان المبارک میں آپ ﷺ سے ہر رات ملاقات فرماتے اور قرآن کا دور کرواتے۔

حضرت جابرؓ کا ارشاد ہے کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ ﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ ﷺ نے نہیں کہہ دیا ہو۔

شجاعت وبہادری

آپ ﷺ کا مقام شجاعت اور بہادری میں سب سے بلنداور معروف تھا۔ آپﷺ سب سے زیادہ دلیر تھے ۔نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جبکہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پاؤں اکھٹر گئے،  آپ اپنی  جگہ برقرار رہے۔اور پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھتےگئے۔ بڑے بڑے بہادر بھی کبھی نہ کبھی بھاگے اور پسپا ہوئے مگر آپ ﷺ میں یہ بات کبھی نہ پائی گئی۔

حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ جب زور کا رن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہﷺ کی آڑ  لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔ لوگ شور کی طرف دوڑے تو راستے میں رسول اللہ ﷺ واپس آتے ہوئے ملے۔آپ ﷺ لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ (کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے) چکے تھے۔ اس وقت آپﷺ ابو طلحہ ؓ کے بغیر زین کے گھوڑے پر سوار تھے۔ گردن میں تلوار حمائل کر رکھی تھی اور فرما رہے تھے کہ ڈرو نہیں، ڈرو نہیں،(کوئی خطرہ نہیں)۔

حیا داری

آپﷺ سب سے زیادہ حیا دار اور پست نگاہ تھے۔ ابو سعید خدری ؓ  فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔

جب آپ ﷺ کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتا لگ جاتا۔(صحیح بخاری)

آپﷺ  اپنی نظریں کسی کی چہرے پر گاڑتے نہ تھے۔ نگاہ پست رکھتے اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف نظر زیادہ دیر تک رہتی تھی۔ عموماً نیچی نگاہ سے دیکھتے۔ حیا اور مروت کا عالم یہ تھا کہ کسی سے ناگوار بات روبرو نہ کہتے۔ اور کسی کی کوئی ناگوار بات آپ ﷺ تک پہنچتی تو نام لے کر اس کا ذکر نہ کرتے بلکہ یوں فرماتے کہ کیا بات ہے کہ کچھ لوگ ایسا کر رہے ہیں۔

صادق اور امین

آپ ﷺ سب سے زیادہ عادل، پاک دامن، صادق  اور امین تھے۔ اس کا اعتراف آپﷺ کے دوست اور دشمن سب کو ہے۔ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو امین کہا جاتا تھا اور دورجاہلیت میں آپ کے پاس  فیصلے کے لئے مقدمات لائے جاتے تھے۔

جامع ترمذی میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک بار ابو جہل نے آپ ﷺ سے کہا : ہم  آپ کو جھوٹا نہیں کہتے ،البتہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں۔

اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:

ترجمہ:یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے۔ بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

ہرقل نے ابو سفیان سے دریافت کیا کہ کیا اس(نبیﷺ) نے جو بات کہی ہے۔ اس کے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے متّہم کرتے تھے؟تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ ’’نہیں‘‘۔

متواضع اور تکبّر سے پاک

آپ ﷺسب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے۔جس  طرح بادشاہوں کے  غلام کھڑے رہتے ہیں اس طرح آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے تھے۔مسکینوں کی عیادت کرتے تھے، فقراء کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے ۔ غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے جوتے خود مرمت کرتے تھے۔ اپنے کپڑے خود سیتے تھے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جس طرح آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔

کشادہ اخلاق

آپ ﷺ سب سے بڑھ کر عہد کی پابندی  اور صلہ رحمی فرماتے تھے۔لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت اور رحم و مروت سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ تھا۔بد خلقی سے سب سے زیادہ دور تھے۔ نہ لعنت کرتے تھے ۔نہ بازار میں چیختے چلاتے تھے ۔ نہ برائی  کا بدلہ برائی سے دیتے تھے ،بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔کسی کو اپنے پیچھے چلتا ہوا نہ چھوڑتے تھےاور نہ کھانے پینے میں غلاموں اور لونڈیوں پر ترفّع اختیار فرماتے ہیں۔ کسی فقیر کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔

واقعہ

ایک بار آپﷺ سفر میں تھے۔ ایک بکری کاٹنے پکانے کا مشورہ ہوا۔ ایک نے کہا: ذبح کرنا میرے ذمہ ، دوسرے نے کہا کھال اتارنا میرے ذمہ، تیسرے نے کہا: پکانا میرے ذمہ، نبیﷺ نے فرمایاایندھن کی لکڑیاں جمع کرنا میرے ذمہ ۔۔۔ صحابہ نے عرض کیا:ہم آپ ﷺ کا کام کردیں گے۔آپ ﷺ  نے فرمایا: میں جانتا ہوں تم لوگ میرا کام کر دو گے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کروں کیونکہ اللہ نے اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے رفقاء میں ممتاز سمجھے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے اٹھ کر لکڑیاں جمع فرمائیں۔

سہل خو اور نرم دل

آپﷺ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت رہتی ۔ سہل خو اور نرم دل تھے۔ نہ چیختے چلاتے تھے، نہ فحش کہتے تھے نہ زیادہ عتاب فرماتے تھے نہ بہت تعریف کرتے تھے۔ جس چیز کی خواہش نہ ہوتی اس سے تغافل برتتے تھے۔ آپ ﷺ سے مایوسی نہیں ہوتی تھی۔

حضرت محمدﷺ نے تین باتوں سے نفس کو محفوظ رکھا

۔ریا سے

۔کسی چیز کی کثرت سے

۔لایعنی باتوں سے

حضرت محمدﷺ نے تین  باتوں سے لوگوں کو محفوظ رکھا

۔ کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے۔

۔کسی کو عار نہیں دلاتے تھے۔

۔کسی کی عیب جوئی نہیں کرتے تھے۔

صحابہ کرام ؓ کی خبر گیری کرنا

اپنے اصحاب کی خبر گیری کرتے اور لوگوں کے حالات دریافت کرتے۔اچھی چیز کی تحسین و تصویب فرماتے اور بری جیز کی تقبیح و توہین۔مُعتدل تھے اور افراط و تفریط سے دُور تھے۔حق سے کوتاہی نہ کرتے تھےاور نہ حق سے تجاوز فرماتے۔

جگہ متعین نہ کرنا

آپﷺ اُٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر ضرور فرماتے اور جگہیں متعین نہ فرماتے۔ جب قوم کے پاس پہنچتے تو مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے اور اسی کا حکم بھی فرماتے۔

سب پر یکساں توجہ

سب اہل مجلس پر برابر توجہ فرماتے،حتٰی کہ کوئی جلیس یہ نہ محسوس کرتا کہ کوئی شخص آپ ﷺ کے نزدیک اس سے زیادہ باعزت ہے۔آپﷺ کے نزدیک سب یکساں حق رکھتے تھے، کسی کو فضیلت تھی تو تقوٰی کی بنیاد پر۔آپﷺ کی مجلس حلم و حیا اور صبر و امانت کی مجلس تھی۔ بڑے کا احترام کرتے تھے اور چھوٹے پر رحم کرتے تھے،حاجتمند کو نوازتے تھے اور اجنبی کو انس عطا کرتے تھے۔

باوقار اور خوش اخلاق

خارجہ  بن زید ؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ اپنی مجلس میں سب سے زیادہ باوقار ہوتے ۔ اپنے پاؤں وغیرہ نہ پھیلاتے، بہت زیادہ خاموش رہتے۔ بلاضرورت نہ بولتے۔ جو شخصنامناسب بات بولتااس سے رُخ پھیر لیتے۔ آپ ﷺ کی ہنسی مسکراہٹ تھی اور کلام دو ٹوک، نہ فضول نہ کوتاہ۔آپﷺ کے صحابہ کی ہنسی بھی آپﷺکی توقیر و اقتداء میں مسکراہٹ ہی کی حد تک ہوتی۔

حاصل کلام

حاصل یہ  کہ  ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ بے نظیر صفات کمال سے آراستہ تھے۔ آپ ﷺ کے رب نےآپﷺ کو بے نظیر ادب سے نوازاتھاحتٰی کہ اس نے خود آپﷺ کی تعریف میں فرمایا

وانک لعلی خلق عظیم(۴:۶۸)

ترجمہ: یقیناً آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔

اور یہ ایسی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے لوگ آپ ﷺ کی طرف کھنچ آئے، دلوں میں آپﷺ کی محبت بیٹھ گئی اور آپﷺ کو قیادت کا وہ مقام حاصل ہو کہ لوگ آپﷺ پر وارفتہ ہو گئے۔ ان ہی خوبیوں کی وجہ سے آپﷺ کی قوم کی اکڑ اور سختی نرمی میں تبدیل ہوئی یہاں تک کہ یہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو گئی۔

یہاں آپﷺ کے کمال اور عظیم صفات کے مظاہر کی جند چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں ورنہ آپﷺ کے شمائل و خصائل کی بلندی  اور کمال کا یہ عالم تھا کہ ان کی حقیقت اور تہ تک نہ رسائی ممکن ہے اور نہ اس کی گہرائی ناپی جا سکتی ہے۔

بھلا عالم وجود کے اس سب سے عظیم بشر کی عظمت کی کنہ تک کس کی رسائی ہو سکتی ہے جس نے  مجدد کمال کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا نشیمن بنایا اور اپنے رب کے نور سے اس طرح منور ہوا کہ کتاب الہٰی ہی کو اس کا وصف اور خُلق قرار دیا گیا ۔یعنی

؎ قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

(الرحیق المختوم)

Leave a Comment

Translate »