خاندان سیدنا عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ

18ذوالحجۃ وہ دن ہے جس دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے۔۔۔آپ کو ذوالنورین اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم کی دو شہزادیوں کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے نکاح فرمایا۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ کو حبشہ اور مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔۔۔

آپ رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 47 سال پہلے بمطابق 576 ء کو پیدا ہوۓ اور 35 ہجری بمطابق 656 ء کو 82 سال کی عمر میں شہید کیے گئے۔۔۔

23 ہجری 644 ء میں اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ کے ذریعے آپ رضی اللہ عنہ کو خلافت کی زمہ داری سونپی گئی جسے آپ رضی اللہ عنہ نے 35 ھ بمطابق 656 ء تک انجام دیا۔۔۔

آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام “عفان بن ابی العاص” والدہ کا نام”اروی بنت کریز”تھا۔۔۔ایک باپ شریک بہن تھیں جن کا نام “آمنہ بنت عفان” تھا۔

“آپ رضی اللہ عنہ کی ازواج” 

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ انہوں نے کل آٹھ شادیاں کی اور سب کی سب اسلام کے بعد کیں۔

1 سیدہ رقیہ بنت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم  

2 سیدہ ام کلثوم بنت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم 

3 ام عمر بنت جندب الاذدیہ 

4 فاطمہ بنت ولید بن عبد شمس بن مغیرہ المخزومیہ 

5 ام البنین بنت عینیہ بن حصن الفزاریه 

6 رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ الامویہ 

7  فاختہ بنت غزوان 

8  نائلہ بنت فرافصة الکلیه 

“آپ کی اولاد” 

آپ رضی ﷲ عنہ کے 9 بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں 

بیٹوں کے نام 

1عبدﷲ

2 عبدﷲ الاصغر 

3عمرو

4 خالد

5  ابان

6 عمر

7 ولید

8 سعید 

9  عبدالملك 

“آپ رضی ﷲ عنہ کی بیٹیاں”

1 مریم

2  ام سعید 

3 عائشہ

4  مریم 

5 ام البنین 

افسوس باوجود کوشش کے مجھے دو بیٹیوں کے نام نہ مل سکے 

سیدنا عثمان رضی ﷲ عنہ کی صرف ایک حقیقی بہن تھی جس کا نام آمنہ بنت عفان  تھا۔

آپ رضی ﷲ عنہ کی ماں شریک تین بہنیں تھیں۔

1 ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط 

2 ام حکیم بنت عقبہ

3 ھند بنت عقبہ  

آپ رضی ﷲ عنہ کے ماں شریک تین بھائی تھے۔

1 ولید بن عقبہ بن ابی معیط 

2 عمرو بن عقبہ 

3 خالد بن عقبہ

Hazrat Usman RA

حضرت عثمانِ غنیؓ اور اُن کا دورِ خلافت

خلیفہ سوم ، پیکر جود و سخا سیدنا عثمان غنی ؓ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار جنت کی بشارت دی اور آپؓ کو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں حضرت سیدہ رقیہؓ اور حضرت سیدہ ام کلثومؓ کے ساتھ یکے بعد دیگرے نکاح کی وجہ سے حضرت عثمان عنی ؓ کو ’’ذوالنورین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

آپؓ نے خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبرؓ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’نورِایمان‘‘ سے منور کیا، طبقات ابن سعد کے مطابق آپؓ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں، جس کی وجہ سے آپؓ ’’السابقون الاوّلون‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہیں، آپؓ حافظ قرآن، جامع القرآن اور ناشر القرآن بھی ہیں، ایک موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی جنت میں عثمان غنیؓ ہوگا۔

امام مسلمؒ اور امام بخاری ؒ نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت عثمان غنی ؓ ہمارے پاس آتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لباس درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ میں اس (عثمان غنی) سے کس طرح حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔

اسلام کی خاطر دو مرتبہ ہجرت کرنے کی وجہ سے آپ کا لقب ’’ذوالہجرتین‘‘ بھی ہے آپؓ کا ظاہری حسن دو عظیم المرتبہ انبیاء کرام علیہما السلام سیدنا ابراہیم ؑ اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھا۔

آپ کا نام عثمان اور لقب ذوالنورین ہے، آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے ۔ آپ کا تعلق قریش کی سب سے بڑی شاخ ’’بنوامیہ‘‘ سے ہے، سیدنا عثمان غنیؓ سفید رنگ ، خوبصورت و با وجاہت اور متوازن قدو قامت کے مالک تھے ، گھنی داڑھی ارو دراز زلفوں کی وجہ سے سیدنا عثمان غنیؓ جب لباس زیب تن کر کے ’’عمامہ‘‘ سے مزّین ہوتے تو انتہائی خوبصورت معلوم ہوتے اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ساتھ اپنی ثروت و سخاوت میں مشہور اور ’’شرم وحیا‘‘ کی صفت میں بے مثال تھے۔

شروع ہی سے بڑے پیمانے پر تجارت کی بدولت آپؓ کا شمار ’’صاحب ثروت‘‘ لوگوں میں ہوتا تھا، آپؓ عمدہ لباس اور لذیذ و نفیس غذاؤں کے عادی تھے، لیکن اس سب کے باوجود آپؓ کی طرزِ زندگی سادگی سے عبارت تھی، رہن سہن ، اخلاق واطوار اور کردار میں آپؓ کا ہر کام ’’سنت نبویؐ‘‘ سے ہی آراستہ و مزین ہوتا، ایک مرتبہ وضوء سے فارغ ہوکر مسکرائے تو لوگوں نے اس موقعہ پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کے بعد اسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا ہے۔

امامِ ترمذی، ؒ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’بیعتِ رضوان‘‘ کے موقعہ پر سیدنا عثمان غنیؓ ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ’’سفیر‘‘ بن کر مکہ گئے تھے کہ خبر مشہور ہوگئی کہ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ شہید کر دیئے گئے….. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو حضرت عثمان غنیؓ کا بدلہ لینے کیلئے میرے ہاتھ پر بیعت کریگا، اس وقت تقریباً چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت عثمان غنیؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک پر ’’موت کی بیعت‘‘ کی اس موقعہ پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان غنیؓ کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ ’’بیعت‘‘ عثمانؓ کی طرف سے ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان اور ’’بیعت شجرہ‘‘ ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کرنے والوں سے اپنی رضا اور خوشنودی کا اعلان فرمایا ہے۔ حضرت سیدہ رقیہ ؓ کی وفات کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ امّ کلثومؓ کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنیؓ سے کر دیا اس موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل امین علیہ السلام ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری بیٹی (ام کلثومؓ) کا نکاح بھی آپؓ (عثمانؓ) سے کردوں دوسری بیٹی سیدہ حضرت ام کلثومؓ کی وفات کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں اور ایک روایت کے مطابق حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان کو سیدنا عثمان غنیؓ کے نکاح میں دیتا رہتا۔ 

جنگ تبوک کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو اس جنگ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب فرمائی…… اس موقعہ پر صدق و وفاء کے پیکر خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے گھر کا تمام سامان اور مال و اسباب اور خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ نے نصف مال لاکر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نچھاور کر دیا ، ایک روایت کے مطابق اس موقعہ پر سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے ایک ہزار اونٹ ، ستر گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں جنگ تبوک کے لئے اللہ کے راستہ میں دیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر مبارک سے نیچے تشریف لائے اور حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت سے اس قدر خوش تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے اشرفیوں کو الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’ماضرّ عثمان ما عمل بعد ہذا الیوم‘‘ آج کے بعد عثمانؓ کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔

حضرت سعیدؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اوّل شب سے طلوع فجر تک ہاتھ اٹھا کر سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے لئے دُعا فرماتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے! اے اللہ میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔

ایک روایت میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ! اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں جو تجھ سے ہو چکے یا قیامت تک ہوں گے۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا ہاتھ اٹھا کر دُعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل مبارک ظاہر ہو جائے مگر عثمانِ غنیؓ کے لئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے تو بغل مبارک ظاہر ہوجاتی تھی۔

سیدنا حضرت عثمان غنیؓ ایک مدت تک ’’کتابتِ وحی‘‘ جیسے جلیل القدر منصب پر بھی فائز رہے۔۔۔ اس کے علاوہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط وغیرہ بھی لکھا کرتے تھے، حضرت عثمان غنیؓ کی یہ حالت تھی کہ رات کو بہت تھوڑی دیر کے لئے سوتے تھے اور تقریباً تمام رات نماز و عبادت میں مصروف رہتے ، آپؓ ’’صائم الدہر‘‘ تھے، سوائے ایام ممنوعہ کے کسی دن روزہ کا ناغہ نہ ہوتا تھا، جس روز آپؓ شہید ہوئے اس دن بھی آپؓ روزہ سے تھے، ہر جمعۃ المبارک کو دو غلام آزاد کرتے ، ایک مرتبہ سخت قحط پڑا تمام لوگ پریشان تھے اسی دوران حضرت عثمان غنیؓ کے ایک ہزار اونٹ غلے سے لدے ہوئے آےئے تو مدینہ کے تمام تاجر جمع ہوگئے….. تاجروں نے کئی گنا زائد قیمت پر اس غلے کو خریدنے کی کوشش کی لیکن آپؓ نے فرمایا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ نفع ملتا ہے۔۔۔ تم سب لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ’’فقراء مدینہ‘‘ کو دے دیا۔۔۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم کو میٹھے پانی کے لئے بڑی دقّت و تکلیف تھی، صرف ایک میٹھے پانی کا کنواں تھا جس کا نام ’’بیئر رومہ‘‘ تھا جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا، وہ یہودی جس قیمت پر چاہتا مہنگے داموں پانی فروخت کرتا ۔۔۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس کنوئیں کو خرید کر اللہ کے راستہ میں وقف کر دے اس کے لئے جنت کی بشارت و خوشخبری ہے ۔ سیدناحضرت عثمان غنیؓ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کر دیا ۔ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی ہونے کے بعدجب دُنیا سے رخصت ہونے لگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان سے درخواست کی کہ آپؓ اپنا جانشین و خلیفہ مقرر فرمادیں … .. سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے ’’عشرہ مبشرہ‘‘ صحابہ کرامؓ میں سے چھ نامور شخصیات ، حضرت عثمان غنیؓ ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہؓ ، حضرت زبیرؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ کو نامزد کر کے ’’خلیفہ‘‘ کے انتخاب کا حکم دیا۔۔۔ بالآخر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ حضرت عثمان غنیؓ کو خلیفہ نامزد کیا۔۔۔

سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطبہ میں خاص طور پر یہ باتیں ارشاد فرمائیں! اے لوگو! نیک کام کرو، کیونکہ صبح و شام کوچ کرنا ہوگا، دنیا مکروفریب میں لپٹی ہوئی ہے اس کے قریب بھی نہ آؤ، گزری ہوئی باتوں سے عبرت حاصل کرو۔

سیدناحضرت عثمان غنیؓ نے 24ھ میں نظام خلافت کو سنبھالا اور خلیفہ مقر ر ہوئے تو شر وع میں آپؓ نے22لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔۔۔ اس میں سے بیشتر ممالک فتح ہوچکے تھے، لیکن ابھی یہاں مسلمان مستحکم نہیں ہوئے تھے اور خطرہ تھا کہ یہ ممالک اور ریاستیں دوبارہ کفر کی آغوش میں نہ چلی جائیں، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا ، آپؓ کے دور خلافت میں سیدناحضرت امیر معاویہؓ نے اسلام کا پہلا بحری بیڑا تیار کر کے ’’بحر اوقیانوس‘‘ میں اسلام کا عظیم لشکر اتار دیا اس طرح پاپائے روم پر سکتہ طاری کر کے آپؓ کی فوجوں نے فرانس ویورپ کے کئی ممالک میں اسلام کے آفاقی نظام کو پہنچا دیا۔۔۔ اسلامی فوجوں نے عثمانی دور میں ہی سندھ مکران ، طبرستان اور کابل سمیت متعدد ایشیائی ممالک فتح کئے ، آپؓ کے دورِ خلافت میں ہی اسلامی حکومت سندھ اور کابل سے لے کر یورپ کی سرحد تک پہنچ گئی سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں مملکت اسلامیہ کی حدود بہت وسیع ہوگئی تھیں۔۔۔یہاں انتظامی اور رفاعی شعبوں کا اجراء، ہرعلاقہ میں سستے انصاف کی عدالتوں کا قیام بھی آپؓ کا منفرد کارنامہ ہے حضرت عثمان غنیؓ تمام صوبوں کے گورنر ، قاضی اور ارکان دولت کی چھان پھٹک کر کے نہایت زیرک اور محنتی حاکم مقرر کرتے ،آپؓ کا طریقہ تھا کہ ہر تین ماہ یا چھ ماہ بعد گورنروں اور عمال حکومت کے نام ہدایات جاری کرتے رہتے تھے۔۔۔ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے گورنروں کے نام حکم نامہ جاری کیا، جس میں یہ تحریر تھا کہ ! ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے امام یا امیر کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ قوم کا نگران یا چرواہا ہو، اور اللہ تعالیٰ نے اس لئے اس کو امیر نہیں بنایا کہ وہ عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے روند ڈالے‘‘۔

ابن سعدؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنیؓ کو اس حالت میں دیکھا کہ دوپہر کے وقت مسجد نبویؐ کے صحن میں کچّی اینٹ کا تکیہ سرکے نیچے رکھے ہوئے آپؓ آرام فرمارہے ہیں، مَیں نے گھر جاکر اپنے والد سے دریافت کیا کہ ایسا حسین و جمیل شخص اس حالت میں کون تھا جو مسجد نبویؐ میں لیٹا ہوا تھا۔۔۔ والد نے کہا کہ یہ امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ ہیں (ابن کثیر جلد 7 ص:213)

 حضرت عثمان غنیؓ کا دور خلافت بے مثال اصلاحات اور رفاعی مہمّات سے عبارت ہے، سادہ طرز زندگی ، سادہ اطوار ، اعلیٰ اخلاق ، عام آدمی تک رسائی ، ظلم و جور سے نفرت ، زیادتی اور تجاوز سے دوری آپؓ کے شاہکار کارناموں میں شامل ہے، آپؓ کے پہلے چھ سال فتوحات و کامیابی و کامرانی کے ایسے عنوان سے عبارت ہیں کہ جن پر اسلام کی پوری تاریخ فخر کرتی رہے گی۔

خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی کو مصر کے بلوائی شہید کرنے کے در پے تھے اور تقریباً ساڑھے سات سو بلوائیوں نے ایک خط کا بہانہ بنا کر ملک میں بد امنی بیدا کر کے مدینہ منورہ پر قبضہ کر لیا۔۔۔ اس دوران سیدناحضرت علی المرتضیٰؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے باغیوں کا سر کاٹنے کی اجازت چاہی تو آپؓ نے اجازت دینے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ! مجھ سے یہ نہ ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں اور خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا خون بہاؤں۔۔۔مدینہ منورہ میں بلوائیوں نے بغاوت کا ایک ایسا وقت طے کیا کہ جب مدینہ منورہ کے تمام لوگ حج پر گئے ہوں اور صرف چند افراد یہاں ہوں۔۔۔ تاکہ ایسے وقت میں امیر المؤمنین سیدنا حضرت عثمان غنی ؓ کو خلافت سے دستبرار کر واکر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام کی پر شکوہ ’’قصرِ خلافت‘‘ کو مسمار کرتے ہوئے ، حضور اقدص صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کو آگ و خون میں مبتلا کر کے اسلام کی مرکز یت کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔

ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ! اے عثمان! اللہ تعالیٰ تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اس خلافت کی قمیص کو اتارنے کی کوشش کریں تو اس کو مت اتارنا یہاں تک کہ مجھے آملو (شہید ہو جاؤ) چنانچہ آخری وقت میں جب باغیوں اور منافقوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ ! مجھ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا(منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا) چنانچہ میں اس عہد پرقائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں،

 35ھ ذیقعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیا۔۔۔حافظ عماد الدین نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں لکھا ہے کہ باغیوں کی شورش میں حضرت عثمان غنیؓ نے صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑا ۔۔۔ محاصرہ دوران باغیوں نے چالیس روز تک آپؓ کا کھانا اور پانی بند کر دیا اور 18ذوالحجہ کو چالیس روز سے بھوکے پیائے 82 سالہ مظلوم مدینہ خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی ؓ کو جمعہ المبارک کے روز ، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے روزہ کی حالت میں انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ نے12دن کم 12سال تک 44 لاکھ مربع میل کے وسیع و عریض خطہ پر اسلامی سلطنت قائم کرنے اور نظام خلافت کو چلانے کے بعد جام شہادت نوش کیا ۔ رضی اللہ عنہ

Leave a Comment

Translate »