حضرت محمدﷺ کی ولادت باسعادت اور حیات طیبہ کے چالیس سال

 

ولادت باسعادت

رسول اللہﷺ مکہ میں شعب بن ہاشم میں ۹ ربیع الاول سنہ۱ عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا۔ اور ۲۰ یا ۲۲ اپریل ۵۷۱ء کی تاریخ تھی۔علامہ محمد سلیمان صاحب ،سلمان منصور پُوری اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہرسوہے۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی والدہ نے فرمایا جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہوگئے، امام احمد نے حضرت عرباض بن ساریہ سے بھی تقریباً اسی مضمون کی ایک روایتنقل فرمائی ہے۔ 

حضرت محمد کی ولادت

بعض روایات میں آیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمہ کے طور پر ثابت ہوئے۔ یعنی ایوان کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے۔ مجوسیوں کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو  گیا۔ بحیرہ سادہ خشک ہو گیا۔ اور گرجے منہدم ہو گئے۔ یہ بیہقی کی روایت ہے لیکن امام غزالی نے اسے درست تسلیم نہیں کیا۔ولادت کے وقت آپ ﷺ کی والدہ بی بی آمنہ نے عبدالمطلب کے پاس پوتے کی خوش خبری بھجوائی۔ وہ خوشی خوشی تشریف لائے اور آپ ﷺ کو خانہ کعبہ میں لے جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اس کا شکر ادا کیااور آپﷺ کا نام محمد تجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا۔ پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپﷺ مختون یعنی ختنہ کئے ہوئے ،پیدا  ہوئے۔ 

پہلی رضاعی والدہ  ثوبیہ

آپ ﷺکو  آپ کی والدہ کے بعد سب سے پہلے ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا۔ اس وقت اس کی گود میں جو بچہ تھااس کا نام مسروح تھا۔ ثوبیہ نے آپﷺ سے پہلے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو اور ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی کو دودھ پلایا تھا۔

رضاعی والدہ بی بی حلیمہ

عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لئے دودھ پلانے والی بدوی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے تا کہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور گہوارہ سے ہی خالص اورٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔اسی دستور کے مطابق عبدالمطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبیﷺ کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذویب کے حوالے کیا۔ یہ قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون تھیں۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزی اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔

حارث  کی اولاد کے نام یہ ہیں جو رضاعت کے تعلق سے رسول اللہ ﷺ کے بھائی بہن تھے: عبداللہ ،انیسہ، حذافہ یا جذامہ، انہیں کا لقب شیما تھا اور اسی نام سے زیادہ مشہور ہوئیں۔ یہ رسول اللہ ﷺکو گود کھلایا کرتی تھیں۔ ان کے علاوہ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب جو رسول اللہ ﷺ کے چچیرے بھائی تھے وہ بھی حضرت حلیمہ کے واسطے سے آپ کے رضاعی بھائی تھے۔ آپ ﷺ کے چچ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی دودھ پلانے کے لئے بنو سعد کی ایک عورت کے حوالے کئے گئے تھے۔ اس عورت نے بھی جب رسول اللہ ﷺ حضرت حلیمہ کے پاس تھے تو آپ کو دودھ پلا دیا ۔ اس طرح آپ اور حضرت حمزہ  دوہرے رضاعی بھائی بن گئے ایک ثوبیہ کے تعلق سے اور دوسرے بنو سعد کی اس عورت کے تعلق سے۔

رضاعت کے دوران بر کت کے مناظر 

رضاعت کے دوران حضرت حلیمہ نے نبیﷺ کی برکت کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ سراپا حیرت رہ گئیں۔ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت حلیمہ بیان کیا کرتی تھیں کہ وہ اپنے شہر سے باہر دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں نکلیں۔ یہ قحط سالی کے دن تھے اور قحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا۔ میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی، لیکن بخدا اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا۔ادھر بھوک سے بچہ اس طرح بلکتا تھا کہ ہم ساری رات سو نہیں سکتے تھے۔ نہ میرے سینےمیں بچہ کے لئے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اساو کی خوراک دے سکتی تھی۔ بس ہم بارش   اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلی تو کمزوری اور دبلے پن کی وجہ سے اتنی سست رفتار تھی کہ سارا قافلہ ہی اس سے تنگ تھا۔ خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے۔ پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں  تھی جس پر رسول اللہ ﷺ کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے آپ ﷺ کے یتیم ہونے کا پتہ چلتا تو وہ لینے سے انکار کر دیتی۔ کیونکہ ہم بچے کے والد سے دولت کی امید رکھتے تھے ہم کہتے یہ تو یتیم ہے بھلا اس کی بیوہ ماں ہمیں کیا دے سکتی ہے۔ بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ کو لینا نہیں چاہتے تھے۔

ادھر جتنی بھی  عورتیں آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا بس مجھے نہ مل سکا۔ جب واپسی کی باری آئی تو میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ خدا کی قسم! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے کر جائیں لیکن میں خالی ہاتھ جاؤں ۔ میں جا کر اس یتیم بچے کو لے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ ممکن ہے کہ اللہ اسی میں ہمارے لئے برکت ڈال  دے۔ اس کے بعد جا کر میں نے وہ بچہ لے لیا اور محض اس لئے لے لیا کہ کوئی اور بچہ نہیں مل سکا۔

حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میں بچے کو لے کر ڈیرے پر واپس آئی تو اسے اپنی آغوش میں رکھا اور اس نے جتنا چاہا دودھ پیا۔دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ آئے اور اس نے پیٹ بھر کر دودھ پیا۔ اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی جی بھر کے پیا، پھر دونوں سو گئے۔

 

Leave a Comment

Translate »