حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

آپؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے 47 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں نہ کبھی زنا کیا ، نہ شراب پی، نہ کسی کو قتل کیا، نہ کبھی چوری کی ، نہ کبھی مسلمان ہونے بعد دین سے پھرا، نہ دین بدلنے کی تمنا کی ، نہ ہی گانا بجایا۔ سیدنا عثمانؓ بہت خوب صورت تھے گندمی رنگ ، قد معتدل ، گھنی داڑھی ، مضبوط جسم ، بارعب اور شخصیت کو نمایاں کرنے والا چہرہ تھا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سب سے زیادہ باحیاء عثمانؓ ہیں۔ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت رقیّہ ؓ کو مرض نے آ گھیرا جس کے سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عثمان ؓ کو بدر میں شرکت سے منع فرمایا اور حضرت رقیّہ ؓ کے ساتھ رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا اﷲ آپ کو بدر کے شریکین کا ثواب عطا فرمائے گا اور غزوہ بدر کی فتح پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے آپ ؓ کو بھی حصہ دیا،جس دن بدر فتح ہوااسی دن حضرت رقیّہ ؓ انتقال فرماگئی ان کی وفات کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ کا حکم ہے کہ میں اسکی بہن امّ کلثوم کا نکاح عثمان سے کردوں پھر جب امّ کلثومؓ کی وفات ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسکا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کردیتا۔  مسلمانوں کوجب بھی مالی ضرورت پڑی تو آپؓ کا مال کثیر تعداد میں آگے نظر آتا تھا، چاہے وہ غزوہ تبوک کا موقعہ ہو یا بیررومہ کے کنواں کی خریداری کا ،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی بڑی مالی خدمتیں کی اورچرسول اﷲ کی اچھی اچھی دعائیں حاصل کی۔ آپؓ کا شمار اُن صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے کہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی لکھنے پر معمور کیا ہوا تھا اسی وجہ سے آپؓ کو کاتب وحی کا لقب ملا۔

Quality of Hazrat Usman
Quality of Hazrat Usman

حضرت عثمان غنی ؓ کی خوبیاں

سخاوت ایسی کہ پہلے سامان اور 100 پھر دوسو پھر تین سو اونٹ دینے کا اعلان فرما کر 950 اونٹ ۵۰گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کردیں بعد میں دس  ہزار اشرفیاں اور پیش کیں

حیا ایسی کہ آسمانوں کے فرشتے بھی آپ سے حیا فرمائیں

کردار ایسا کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یکے بعد دیگر ے اپنی دو بیٹیاں آپ کے نکاح میں دے کر آپ کو ذوالنورین  بننے کا شرف عطا فرما دیں

ذہین  ایسے  کہ جامع القرآن  اور ناشر القرآن کہلائیں

عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کہ کعبے تک جائیں  پر محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بِنا طواف نہ فرمائیں

شوق عبادت  ایسا کہ ساری رات عبات میں گزاریں 

ذوق تلاوت ایسا  ایک رکعت میں  پورا قرآن پاک  مکمل فرمالیں

جن سے خوش کر کبھی آقا فرمائیں” آج سے  عثمان  جو کچھ کریں اس پر پوچھ گچھ نہیں ،،

کبھی فرط محبت سے مصطفیٰ کریم علیہ السلام کی مبارک زبان سے جنت  کی بشارت  مل جائے

آقا علیہ الصلوۃ والسلام فرماتےہیں  ہر نبی کا رفیق ہے اور جنت میں میرے ساتھی عثمان ہونگے (رضی اللّٰہ عنہ) 

آپ اسلام لانے والی چوتھی شخصیت ہیں 

آپ کو  تیسرے خلیفۃالمسلمین  ہونے کا شرف حاصل ہے

ھجری سال کے 355  دنوں میں کوئی دن ایسا نہیں جس میں کسی نہ کسی صحابی رسول کی شھادت نہ ہوئی ہو 

لیکن ان سب واقعات میں شھادت عثمان رضی الله عنه کا واقعہ سب سے زیادہ المناک درد انگیز و مظلومانہ ہے۔ لیکن چور مچائے شور کے مصداقِ حقیقی “ قاتلانِ حُسین “ ذُریتِ یہود و مجوس روافض کے پروپیگنڈے نے شھادتِ حسین رضی الله عنه پہ اس طرح صدیوں تک مسلسل واویلا مچایا کہ آج اھل سُنت کی کثیر تعداد بھی شھادتِ عثمان رضی الله عنه کے واقعات سے نا آشنا و بے بہرہ ہے۔ آپ کو  جمعۃالمبارک کے دن 35 ہجری  حج کے مہینے میں شہید کیا گیا.شہادت سے قبل محبوب کریم علیہ السلام نے  خواب میں تشریف لاکر آپ کو بشارت  عطافرمائی۔ جنت البقیع شریف میں آقا کے قدموں میں آرام فرمانے کا شرف حاصل ہے۔ اللہ کریم ہمیں ان کے اسوہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان  کے صدقے ہماری بے حساب بخشش فرمائے

آمین

خلافت کی ذمہ داریاں

سیدنا عثمان ؓ نے جن حالات میں عہدہ خلافت اٹھایا اگرچہ وہ مشکل ترین حالات تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی فراست ، سیاسی شعوراور حکمت عملیوں کی بدولت اسلام کو خوب تقویت ملی۔ اسلام پھیلا، اسلامی تعلیمات سے زمانہ روشن ہوا۔ آپ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے لوگوں کو نماز عصر پڑھائی۔ آپ نے فوجیوں کے وظائف میں سو سو درہم کے اضافے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ طرابلس ، قبرص اور آرمینیہ میں فوجی مراکز قائم کیے۔چونکہ اس وقت فوجی سواریاں اونٹ اور گھوڑے ہوا کرتے تھے اس لیے فوجی سواریوں کے لیے چراہ گاہیں بنائیں۔ مدینہ کے قریب ربذہ کے مقام پر دس میل لمبی دس میل چوڑی چراگاہ قائم کی ، مدینہ سے بیس میل دور مقام نقیع پر ، اسی طرح مقام ضربہ پر چھ چھ میل لمبی چوڑی چراہ گاہیں اور چشمے بنوائے۔ آپؓ کے زمانہ خلافت میں اونٹوں اور گھوڑوں کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ضربہ کی چراہ گاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے۔اسلامی بحری بیڑے کی بنیاد حضرت معاویہ کے اصرار پر سیدنا عثمان ؓ نے رکھی۔ ملکی نظم و نسق کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا ، رائے عامہ کا تہہ دل سے احترام فرمایا کرتے تھے ،اداروں کو خود مختار بنایا اور محکموں کو الگ الگ تقسیم فرمایا : سول ، فوجی ، عدالتی ، مالی اور مذہبی محکمے جدا جدا تھے۔ حضرت عثمان لوگوں کی بے جا تنقید اور عیب گوئی کی پروا کئے بغیر روزانہ لوگوں میں مال تقسیم فرماتے ، عطیات عطا فرماتے ،کھانے پینے کی اشیاءتقسیم فرماتے ، یہاں تک کہ گھی اور شہد بھی تقسیم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ امن وخوشحالی کے عوام سے قرب و ربط ،مظلوم کی نصرت و حمایت ، فوجی چھاونیوں اوراسلامی مکاتب و تعلیم گاہوں کا جال، تعمیر مساجد اور مسجد نبوی کی توسیع، تعلیم القرآن کو عام کرنا ، خون وخرابہ سے دارالخلافت کو بچائے رکھنا کا احتمام فرمایا ۔ سیدنا عثمان ؓنے سرحدوں پر موجود اسلامی افواج کو یہ ہدایات بھیجیں کہ تم لوگ مسلمانوں کی حمایت اور ان کی طرف سے دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے ہو۔ تمہارے لیے حضرت عمر ؓنے جو قوانین مقرر فرمائے تھے وہ ہماری مشاورت سے بنائے تھے۔ اس لیے مجھ تک یہ خبر نہیں پہنچنی چاہیے کہ تم نے ان قوانین میں رد و بدل سے کام لیا ہے۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے۔ اب تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے کیسے بن کے رہنا ہے ؟اور جو ذمہ داری مجھ پر ہے میں بھی اس کی ادائیگی کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ 

فتوحات کا دور

آپؓ کا دور فتوحات کی منزل کی جانب رواں دواں تھا اسی اثناءمیں یہودونصری (جوکہ اشاعت اسلام کو روکنے کے لئے اوّل دن سے مصروف ہے) نے ایک فتنہ برپا کیا اُس فتنے نے خلافت عثمانی ؓ کا انکار کرنا شروع کردیا۔ آپؓ کے گھر کا گھراﺅ ں کیا آپؓؓ پر پانی بند کر دیا گیا اور آپؓ کو شہید کرنے کے ارادے دن بدن مضبوط ہونے لگے ،حضرت علیؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں (حضرت حسن و حُسینؓ) کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت کے لئے گھر کے دروازے پر تلوار لیکر کھڑا کر دیا لیکن فتنہ انتہائی عروج پر پہنچ چکا تھا اُن کا مقصد حضرت عثمانؓ کو منصب خلافت سے اتار نا تھا۔ بہت سے صحابہ اکرام ؓ آپؓ کے پاس آئے اور فرمایا اس منصب کو چھوڑ دیں تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا میں اس منصب کو نہیں چھوڑ سکتا ،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا ،اے عثمان! اﷲ تجھے ایک قمیص پہنائےگا ،لوگ اسکو اتارنا چاہے گے، تم نے لوگوں کے کہنے سے اگر اس قمیص کو اتار دیا تو جنّت کی خوشبو تم کو نصیب نہ ہوگی ۔لہذا میں اس پر رہوں گا لوگوں نے کہا پھر آپؓ کو اس ظلم سے نجات کیسے ملے گی ؟ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اب نجات کا وقت قریب ہے آج می نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوخواب میں دیکھا آپ فرما رہے تھے اے عثمان آج افطاری ہمارے ساتھ کرنا چناچہ آج می نے روزہ رکھا ہے اور انشااﷲ افطار کے وقت رسول خدا کے پاس چلا جاﺅنگا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا 40 دن مسلسل پانی بند رکھنے کے بعد 18 ذی الحجہ کو اس فتنے کے لوگ اپنے ناپاک عزائم لیکر حضرت عثمان ؓ کے گھر کی طرف بھڑے گیٹ پر حضرت حسن و حُسین کو دیکھ کر 3 آدمی گھر کے پچھلے جانب سے کود کر آندر آگئے، حضرت عثمان ؓ حالت روزہ میں قرآن شریف کی تلاوت میں مگن تھے کہ انہوں نے آپؓ پر تلواریں چلادیں آپؓ کا خون اس آیت پر گرا ” فسیکفیکھم اﷲ وھوالسمیع العلیم ” آپؓ کی بی بی صاحبہ نائمہ نے بہت شور کیا مگر ان کی آواز باہر تک نہ سنی گئی آخر کوٹھے پر چڑھ کر انہوں نے آواز دی کہ اے لوگو امیرالمومنین شہید ہوگے یہ آواز سن کر لوگ اندر گئے تو دیکھا آپؓ شہید ہوگئے اور قاتل پشت کی دیوار سے کود کربھاگ گئے ۔اس طرح امیرالمﺅمنین حضرت عثمانؓ 18ذی الحجہ 35ھ بمطابق مئی 656 کو اس دار فانی سے خالق حقیقی کو جاملے ،انّاا ﷲوانّا الیہ راجعون

Leave a Comment

Translate »