حج کے پانچ اہم دن

سات ذی الحجہ سے حج کے افعال و ارکان کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اسی تاریخ کو ظہر کے بعد امام حج کا پہلا خطبہ دیتا ہے جس میں حج کے احکام اور پانچ دن کا پروگرام بتایا جاتا ہے۔

پہلا دن ۸ ذی الحجہ

پہلے دن طلوع آفتاب کے بعد حالت احرام میں سب حاجی منٰی جاتے ہیں۔ تین قسم کے احرام باندھے جاتے ہیں۔

  • مفرد جس کا احرام حج کا ہے۔
  • قارن جس کا احرام حج و عمرہ دونوں کا ہے۔ ان کے احرام پہلے سے بندھے ہوئے ہیں۔
  • متمتع جس نے عمرہ کا احرام کھول دیا تھا۔

اہل حرم آج احرام باندھ کر سنت کے مطابق غسل کرکے  احرام کی چادریں پہن کر مسجد احرام میں آتے ہیں۔ مستحب یہ ہے کہ طواف کریں اور دوگانہ طواف کرنے کے بعد احرام کے لئے دو رکعتیں پڑھیں اور حج کی نیت اس طرح کریں کہ

یا اللہ میں آپ کی رضا کے لئے حج کا ارداہ کرتا ہوں ۔ اس کو میرے لئے آسان کر دیجئے اور قبول فرمائیے اور نیت کے ساتھ تلبیہ پڑھیں

”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ“

تلبیہ

حج کی نیت

تلبیہ پڑھتے ہی احرام حج شروع ہو جاتا ہے۔ اب احرام کی تمام مذکورہ پابندیاں لازم ہو گئی ہیں۔ اس کے بعد حاجی منٰی کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ منٰی مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلہ پر دوطرفہ پہاڑوں کے درمیان بہت بڑا میدان ہے۔

منٰی کی سنتیں

آٹھویں تاریخ کی ظہر سے نویں تاریخ کی صبح تک منٰی میں پانچ نمازیں پڑھنا

اس کو منٰی میں قیام کرنا

اگر اس رات کو مکہ میں رہا یا پہلے عرفات میں پہنچ گیا تو مکروہ ہے۔

دوسرا دن ۹ ذی الحجہ یوم عرفہ

آج حجاج کرام حج کا سب سے بڑا رکن ادا کرتے ہیں جس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ آج کے دن طلوع آفتاب کے بعد جب کچھ دھوپ پھیل جائے تو منٰی سے عرفات روانہ ہو جاتے ہیں

میدان عرفات

عرفات مکہ مکرمہ سے نو میل کے فاصلہ پر حد حرم سے باہر وہ عظیم الشان میدان ہے جہاں حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کا جدائی کے بعد ملاپ اور تعارف ہوا۔ یہی تعارف عرفات کی وجہ تسمیہ بتائی جاتی ہے۔ اس میدان کی حدود چاروں طرف سے متعین کر دی گئی ہے تاکہ وقوف عرفات جو حج کا رکن اعظم ہے حدود عرفات سے باہر نہ ہو۔ اس میدان میں جس طرف سے داخل ہوتے ہیں وہاں خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ کی قائم کی ہوئی ایک مسجد ہے جسے مسجد نمرہ کہتے ہیں۔ یہ مسجد میدان عرفات کے بالکل کنارے پر ہے۔ اس کی مغربی دیوار کا حصہ عرفات سے خارج ہے۔ اس کو بطن عرفہ کہا جاتا ہےیہ حصہ عرفات مین داخل نہیں ہے لہٰذا وقوف معتبر نہیں۔ آج کل دیکھا گیا ہے کہ

میدان عرفات میں قیام کی شرط

  • اگر حجاج کرام وقوف کے وقت ان خیموں سے نکل کر حدود عرفات میں آجائیں تو ان کا حج درست ہو گا اس بات کو خوب سمجھ لیا جائے کہ محض معلموں کے کہنے پر نہ رہیں ۔
  • میدان میں جس جگہ چاہیں ٹھہر سکتے ہیں۔
  • جبل رحمت کے نزدیک ٹھہرنا افضل ہے۔

وقوف عرفات

وقوف کے معنی ٹھہرنے کے ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کے بعد سے صبح صادق تک کے درمیانی حصہ میں کسی قدر ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے۔ اوراسی دن غروب آفتاب تک ٹھہرنا واجب ہے

مستحب یہ کہ زوال آفتاب سے پہلے غسل کرے اور اس کا موقع نہ ملے تو وضو بھی کافی ہے۔ اس ظرح تیاری کر کے مسجدمیں جاتے ہیں یہاں امام المسلمین یا اس کا نائب حج کا دوسرا خطبہ دیتے ہیں جو سنت ہے واجب نہیں۔پھر وہ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ظہر کے ساتھ ہی پڑھاتے ہیں اس صورت میں ظہر کی دونوں سنتیں بھی چھوڑ دی جاتی ہیں۔

مسئلہ

عرفات میں عرفہ کے روز ظہر اور عصر دونوں کو ظہر کے وقت میں جمع کرنا سنت یا مستحب ہے مگر شرط یہ ہے کہ حج کا احرام باندھے ہوئے ہو اور امام المسلمین یا اُس کے نائب کی اقتداء میں پڑھ رہا ہو۔ پہلے ظہر پھر عصر الگ الگ پڑھی جائیں۔

مسئلہ

جمہور صحابہ کے نزدیک اس دن کی نمازوں میں بھی عام نمازوں کی طرح مقیم کو چار رکعت نماز پوری پڑھنا فرض ہے مگر بعض حضرات کے نزدیک اس دن میں مقیم کو بھی قصر کرنا یعنی چار رکعت کی نماز میں دو رکعت پڑھنا احکام حج میں داخل ہے۔ اگر مسجد نمرہ میں ظہر، عصر کی امامت کوئی مقیم کرے اور نماز میں قصر کرے تو جمہور کے نزدیک یہ نماز نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کا اعادہ واجب ہے۔

آج کل عموماً ایسا بھی ہوتا ہے کہ مقیم امام جماعت کے ساتھ قصر کرکے دو رکعت پڑھاتا ہے ۔ اس اپنی جگہ پر خیموں میں ظہر کو ظہر کے وقت اور پھر عصر کو عصر کے وقت میں جماعت کے ساتھ ادا کریں۔

دونوں نمازوں کو ظہر کے وقت میں جمع کرنے کی شرط یہ ہے کہ امام المسلمین یا اس کے نائب کی اقتداء میں ہو۔اور نماز پڑھانے والا مقیم ہونے کے باوجود قصر کرتا ہے اس لئے حنفی مقیم یا مسافر کی نماز اس کے پیچھے درست نہیں ہے۔

وقوف عرفات کا مسنون طریقہ

حجاج کرام زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک پورے میدان عرفات میں جہاں چاہے وقوف کر سکتے ہیں۔ مگر افضل یہ ہے کہ جبل الرحمۃ جو عرفات کا مشہور پہاڑ ہے اس کے قریب جس جگہ رسول اللہ ﷺ کا موقف ہے اس جگہ وقوف کرے۔ بالکل اس جگہ نہ ہو تو جس قدر اس سے قریب ہو بہتر ہے۔ لیکن اگر جبل الرحمۃ کے پاس جانے میں دُشواری ہو یا واپسی کے وقت اپنا خیمہ تلاش کرنا مشکل ہو جیسا کہ آج کل عموماً پیش آتا ہے تو اپنے خیمے ہی میں وقوف کرے۔ اصل چیز دل جمعی اور خشوع و خضوع ہے وہ جب ہی حاصل ہوتا ہے کہ قلب اپنے سامان یا متعلقین کی طرف لگا ہوا نہ ہو۔

مسئلہ

ایک حا جی کے لئے افضل و اعلیٰ تو یہ ہے کہ قبلہ رُخ کھڑا ہو کر مغرب تک وقوف کرے۔ اگر پورے وقت میں کھڑا نہ ہو سکے تو جس قدر کھڑا ہو سکتا ہے کھڑا رہے پھر بیٹھ جائے۔ پھر جب قوت ہو کھڑا ہو جائے اور پورے وقت میں خشوع و خضوع کے ساتھ بار بار تلبیہ پڑھتا رہے۔ گریہ و زاری کے ساتھ ذکر اللہ اور تلاوت ، درود شریف اور استغفار میں مشغول رہے اور دینی و دنیوی مقاصد کے لئے اہنے واسطے اور اپنے متعلقین و احباب کے اور تمام مسلمانوں کے واسطے دعائیں مانگتا رہے۔ یہ وقت قبولیت دعا کا خاص وقت ہے اور ہمیشہ نصیب نہیں ہوتا۔ اس دن بلا ضرورت آپس کی جائز گفتگو سے بھی پر ہیز کرے پورے وقت کو دعاؤں اور ذکر اللہ میں صرف کرے۔

مسئلہ

وقوف کی دعاؤں میں دعا کی طرح ہاتھ اُٹھانا سنت ہے جب تھک جائے ہاتھ چھوڑ کر بھی دعا مانگ سکتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے دست مبارک اُٹھا کر تین مرتبہ اللهُ أَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ کہا اور پھر یہ دعا پڑھی۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ۔ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدیٰ وَنَقِّنِی بِالتَّقْویٰ وَاغْفِرْلِیْ فِیْ الاخرۃ والاولیٰ۔

ترجمہ: کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے ملک ہے اور اسی کے لئے حمد ہے۔ اے اللہ ! تو مجھے ہدایت پر رکھ اور تقوٰی کے ذریعہ پاک فرما اور مجھے دُنیا اور آخرت میں بخش دے۔

پھر ہاتھ چھوڑ دے اتنی دیر جتنی دیر میں الحمد للہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر ہاتھ اُٹھا کر وہی کلمات اور دعا پڑھے پھر اتنی دیر میں بقدر الحمد للہ ہاتھ چھوڑے رکھے۔ پھر تیسری مرتبہ وہی کلمات اور دعا پڑھے۔

وقوف کے وقت کی دعائیں

اصل بات یہ ہے کہ جو دُعا دل سے خشوع و خضوع سے مانگی جائے وہی بہتر ہے۔ خواہ کسی بھی زبان میں مانگے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر شخص کو مانگنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا۔ ہمارے جان و مال اور ماں باپ قربان ہو رسول اللہ ﷺ پر۔۔۔کہ آپﷺ نے ہمیں دینی مقاصد کے ساتھ دنیاوی کاموں اور ضرورتوں کے لئے ایسی دعائیں سکھا دی ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ(ترمذی احمد)

ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ حکومت اُسی کی ہو اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

کیا اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیا پرنزول کرتا ہے

یوم عرفہ کی بڑی فضیلت وخصوصیت آئی ہےکیونکہ اس دن حجاج میدان عرفات میں وقوف کرتے ہیں  ، اس منظر پہ اللہ تعالی فرشتوں کے درمیان فخرکرتا ہے ،اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : الحج عرفہ یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے ۔ (صحیح النسائی :3016)۔ غیر حجاج کے لئے اس دن کا روزہ مشروع ہے جوکہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ مگرلوگوں میں جویہ بات مشہور ہے کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن آسمان دنیاپر نزول کرتا ہے یہ ثابت نہیں ہے۔  اس تعلق سے مجمع الزوائد ، ابن حبان،الترغیب والترھیب اور ابن خزیمہ وغیرہ میں ایک روایت  موجود ہے کہ اللہ تعالی یوم عرفہ کو آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے مگر وہ روایت سندا ًضعیف ہے ۔ روایت اس طرح سے ہے ۔  

ما من أيامٍ عند اللهِ أفضلُ من عشرِ ذي الحجةِ قال : فقال رجلٌ : يا رسولَ اللهِ ! هن أفضلُ أم عدَّتُهنَّ جهادًا في سبيلِ اللهِ قال : هنَّ أفضلُ من عِدَّتهنَّ جهادًا في سبيلِ اللهِ وما من يومٍ أفضلُ عند اللهِ من يومِ عرفةَ ، ينزل اللهُ تبارك وتعالى إلى السماءِ الدنيا ، فيباهى بأهل الأرضِ أهلَ السماءِ ، فيقول : انظُروا إلى عبادي جاءوني شُعْثًا غُبْرًا ضاحين ، جاؤا من كلِّ فجٍّ عميقٍ ، يرجون رحمَتي ، ولم يرَوا عذابي ، فلم يُرَ يومٌ أكثرَ عتيقًا من النَّارِ من يومِ عرفةَ(ضعيف الترغيب:738)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ سے افضل کوئی دن نہیں ہے ،راوی نے کہا کہ ایک آدمی نے سوال کیا اسے اللہ کے رسول ! یہ دن افضل ہیں یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے سے افضل ہے ۔ اور اللہ کے نزدیک عرفہ کے دن سے زیادہ کوئی افضل دن نہیں ہے ۔ اس دن اللہ تعالی آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے پس آسمان والوں کے سامنے  زمین والوں پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے : میرے ان بندوں کو دیکھو میرے پاس گردوغبار سے نمایاں طورپر اٹے ہوئے آئے ۔ دور دراز راستوں سے میری رحمت کی آس لئے ہوئے آئے ۔ ،انہوں نے میرا عذاب نہیں دیکھا۔ عرفہ کے دن سے زیادہ جہنم سے آزاد ہونے والاکوئی دن نہیں دیکھا گیا۔  

شیخ البانی نے ضعیف الترغیب کے علاوہ اسے السلسلۃ الضعیفہ میں 679 کے تحت، صحیح ابن خزیمہ میں 2840، مشکوۃ المصابیح کی تخریج میں 2533 کے تحت ضعیف قرار دیا ہے ۔

ہیثمی نے کہا کہ اس میں محمد بن مروان العقیلی ہے جس کی ابن معین اور ابن حبان نے توثیق کی ہے اور اس کے متعلق کلام بھی ہے ۔ بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔(مجمع الزوائد: 3/256)

ایک روایت میں عرفہ کی شام نزول کرنے کا ذکر آیا ہے ، اس روایت کا ایک ٹکڑا اس طرح سے ہے ۔

ما من أيامٍ أعظمَ عندَ اللهِ من عشرِ ذي الحِجةِ ، إذا كان عشيةُ عرفةَ نزل عزَّ وجلَّ إلى السماءِ الدنيا 
ترجمہ: اللہ کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ سے عظیم کوئی دن نہیں ہے ۔ جب عرفہ کی شام ہوتی ہے تو اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ۔

یہ روایت منکر ہے ۔ دیکھیں 🙁 الکامل فی ضعفاء الرجال: 9/125)

امام ذہبی نے کہا کہ اس میں یحی بن سلام البصری ہیں جنہیں دارقطنی نے ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے کہا کہ ان کی احادیث ضعف کے ساتھ لکھی جائیں گی۔ (میزان الاعتدال : 4/381)

اسی معنی کی ایک روایت اس طرح مروی ہے ۔

إذا كانَ عشيَّةُ عَرفةَ هَبطَ اللَّهُ عزَّ وجلَّ إلى السَّماءِ الدُّنيا فيطَّلعُ إلى أَهلِ الموقِفِ

ترجمہ: جب عرفہ کی شام ہوتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور اہل موقف کی طرف دیکھتا ہے ۔

اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے ۔ (السلسلۃ الضعیفہ :770)،  ابن عساکر نے منکر کہا ہے ۔(تاریخ دمشق : 13/145)، علامہ شوکانی نے باطل کہا ہے ۔(الفوائد المجموعہ :447)

ایک اثر ام سلمہ سے مروی ہے جسے دارقطنی نے اپنی کتاب النزول میں ذکر کیا ہے ۔

حَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، أنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : ” نِعْمَ الْيَوْمُ يَوْمُ يَنْزِلُ اللَّهُ فِيهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، قَالُوا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ ؟ قَالَتْ : يَوْمُ عَرَفَةَ ” .(النزول للدارقطني: 79)

ترجمہ: ام سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا سب سے اچھا دن وہ ہے جس دن اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے ، لوگوں نے پوچھا اے ام المومنین ! وہ کون سا دن ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ عرفہ کا دن ہے ۔

مجھے اس اثر کے ایک راوی یزداد بن عبدالرحمن کے متعلق جرح وتعدیل نہیں ملی باقی رجال سب ثقہ ہیں اور  اس اثر کی کہیں سے مکمل تائید نہیں ہوتی ہے ،جس کی بنیاد پر اس پر عمل کیا جاسکے اتنی بات تو صحیح ہے کہ عرفہ کا دن بہت اہم ہے مگر آسمان دنیا پر نزول الہی کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا ہے ۔ صحیح احادیث کی روشنی میں عرفہ کے دن اللہ تعالی فرشتوں کے درمیان  اہل عرفہ پر فخر کرتا ہے ۔
عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إنَّ اللهَ تعالى يُباهِي ملائِكتَهُ عشِيَّةَ عرَفةَ بأهلِ عرَفةَ ، يقولُ : انظُروا إلى عبادِي ، أتوْنِي شُعْثًا غُبْرًا(صحيح الجامع:1868)

اللہ تعالی یوم عرفہ کی شام فرشتوں سے میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کےساتھ فخرکرتے ہوئے کہتے ہیں میرے ان بندوں کودیکھو میرے پاس گردوغبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں .

رہی یہ بات کہ اللہ تعالی عرفہ کے دن عصر سے مغرب کے وقت میں نزول کرتا ہے سو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اسی طرح ایک بات شیعہ کے یہاں پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی عرفہ کےدن اونٹ پر سوار ہوکر پہلے زوال کے وقت زمین پر نازل ہوتا ہے اس لئے مسلمان شیعہ کی اس بات پہ مطلع رہے اور اس بات سے اسلام کو بری سمجھے ۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عرفہ کے دن یا شام اللہ کے نزول کی بابت کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اس لئے کوئی مسلمان یوم عرفہ کو اللہ کے نزول کا عقیدہ نہ رکھے ، ہاں جس طرح اللہ تعالی  ہررات کے آخری  تہائی حصے میں آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اس میں عرفہ کی رات بھی شامل ہے ،دن نہیں شامل ہے ،بس یہی عقیدہ رکھے جیساکہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَنْزِلُ ربُّنا تباركَ وتعالى كلَّ ليلةٍ إلى السماءِ الدنيا ، حينَ يَبْقَى ثُلُثُ الليلِ الآخرِ ، يقولُ : من يَدعوني فأَستجيبُ لهُ ، من يَسْأَلُنِي فأُعْطِيهِ ، من يَستغفرني فأَغْفِرُ لهُ .(صحيح البخاري:1145)

ترجمہ: ہمارا پروردگار بلند برکت ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والاہے کہ میں اس کو بخش دوں

حج افراد کا مسنون طریقہ

احرام اور نیت :

حج کے مہینوں میں (شوال ،ذی قعدہ، ذی الحجہ) صرف حج کی نیت کریں گے ۔مکہ والے اگر حج افراد یا قران کریں تو اپنی رہائش سے ہی احرام باندھیں گے ۔احرام کے وقت غسل کرنا اور بدن پہ خوشبو لگانا مسنون ہے ۔ واضح رہے حج یا عمرے میں داخل ہونے کی نیت کرنے کواحرام کہاجاتاہے ۔نیت کے الفاظ زبان سے اس طرح کہے جائیں گے ۔” اللھم لبیک حجا”۔

احرام کی کوئی نماز مشروع نہیں ہے ،نمازکا وقت ہو تو نماز پڑھ کے احرام باندھیں یا احرام باندھنے کے بعد دو رکعت وضو کی سنت ادا کرسکتے ہیں۔

میقات سے تلبیہ پکارتے ہوئے حرم تک آئیں گے ۔ تلبیہ کے الفاظ یہ ہیں ۔

لبيك اللهم لبيك .لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك لبيك

(اے اللہ میں تیرے دربار میں حاضر ہوں ، باربار حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، میں تیرے حضور حاضر ہوں ، ہر قسم کی حمد و ستائش کا تو ہی سزا ور ہے ، اور ساری نعمتیں تیری ہی ہیں اور بادشاہت تیری ہی ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔)

عورتوں کو خاموشی سے اور مردوں کو بلند آواز سے تلبیہ کہنا چاہئے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔

حضرت سائب بن خلا د انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

أتاني جبريلُ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فأمرني أن آمرَ أصحابي ومن معي أن يرفعوا أصواتَهم بالإِهلالِ أو قالَ بالتَّلبيةِ يريدُ أحدَهما( صحيح أبي داود:1814)

ترجمہ : میرے پاس حضرت جبرئیل تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ میں اپنے صحابہ اور ساتھیوں کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں ۔حرم شریف:

مکہ پہنچ کر حرم شریف میں دایاں قدم رکھتے ہوئے یہ دعا پڑھیں :

بسم الله والصلاة والسلام على رسول الله أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم , اللهم افتح لي أبواب رحمتك

حرم شریف میں داخل ہوکر طواف قدوم کریں اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت طواف کی سنت ادا کریں خواہ کوئی بھی وقت ہو۔ (یہ نماز ممنوع اوقات میں بھی پڑھ سکتے ہیں )۔ یہ طواف افراد کرنے والوں کے حق میں مستحب ہے  ( اہل مکہ کے لئے نہ تو طواف قدوم ہے اور نہ ہی طواف وداع)۔ افراد کرنے والا اگر طواف  قدوم چھوڑ دیتا ہے تو بھی حج کی صحت پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن طواف کرلے تو بڑے اجر وثواب کا کام ہے ۔ طواف کے بعد چاہیں تو آج ہی حج کی سعی بھی کرسکتے ہیں پھر دس ذی الحجہ کو صرف طواف افاضہ کرنا ہوگا سعی نہیں کرنی پڑے گی ۔ یعنی افراد کرنے والوں کے لئے تین صورتیں ہیں ۔

اولا: چاہیں تو صرف طواف قدوم کرلیں۔

ثانیا: چاہیں تو طواف  قدوم وسعی دونوں کرلیں۔

ثالثا: چاہیں تو طواف  قدوم وسعی دونوں چھوڑدیں۔

طواف میں دھیان دینے والی باتیں :

طواف میں اضطباع (دایاں کندھاکھلا اور بایاں ڈھکاہونا) ہونا چاہئے ،حجراسود سے طواف کی شروعات ہوگی، ہرمرتبہ حجراسود کے پاس دایاں ہاتھ اٹھاکربسم اللہ اکبر کہیں گے، شروع کے تین چکروں میں رمل مسنون ہے ، ہرچکرمیں تکبیر کے ساتھ رکن یمانی کا استلام کرنا چاہئےاگر ممکن ہوورنہ چھوڑدیں،رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان ہرچکر میں (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ) پڑھناہے، بقیہ جگہوں پہ کوئی مخصوص دعا نہیں ہے جو چاہیں دعا کرسکتے ہیں۔ کتابوں میں موجودہرچکر کی مخصوص دعا بناوٹی ہے اس بناوٹ سے بچیں، دعا میں کتابوں یا طواف کرنے والے کسی قاری کی پیروی کرنا غلط ہے ۔ حجراسود کے پاس باربار ہاتھ اٹھانا یا دونوں ہاتھ اٹھانااور ہاتھوں کو چومنا غلط ہے ۔

سعی میں دھیان دینے والی باتیں :

سعی میں کندھانہیں کھولناہے، ابتداء صفا سے کرنی ہے مروہ پہ پہنچ کر ایک چکر ہوجاتاہے ۔ ہری بتی کے درمیان مردوں کو تیزی سے چلنا ہے ۔ سعی کی ساتوں چکر میں کوئی مخصوص دعا نہیں ہے جو جی میں آئے دعا کرسکتے ہیں۔ ہرمرتبہ صفا اور مروہ پہ تین تین دفعہ یہ دعا پڑھنی ہے :

‘لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ أنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ’ ۔

آخری مرتبہ مروہ پہ کچھ نہیں پڑھناہے ۔
مفرد طواف قدوم (چاہیں تو سعی بھی) کے بعد سے لیکر ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ تک احرام میں ہی باقی رہیں گے(اس کے بعد بھی مزید دو دن ،یوم النحرتک) ۔ اس دوران ممنوعات احرام کی پابندی کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے اس وجہ سے مفرد کو میں مشورہ دینا چاہتاہوں کہ وہ آٹھ ذی الحجہ کے قریب حج کا احرام باندھیں تاکہ زیادہ دنوں تک ممنوعات احرام کی پابندی نہ کرنی پڑے ۔

آٹھ ذی الحجہ (یوم الترویہ)

اگر مفرد آٹھ ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھتا ہے تو طواف وسعی کرکے یا بغیر طواف وسعی ظہرتک منی چلاجائے ۔اگر آٹھ سے پہلے ہی احرام باندھا تھا تو اسی احرام کی حالت میں منی چلا جائے ۔ منی پہنچ کر ظہر، عصر،مغرب،عشاء اور فجر کی نماز اپنے اپنے وقتوں پر قصر کے ساتھ پڑھے (اہل مکہ بھی قصرکرے)۔فجر کی نماز پڑھ کر سورج نکلنے کے بعد عرفات کی طرف جائے ۔

نوذی الحجہ (یوم عرفہ)

اگر کسی وجہ سے مفرد آٹھ ذی الحجہ کو احرام نہیں باندھ سکا تو نو ذی الحجہ کو بھی باندھ سکتا ہے ۔ میقات (اہل مکہ اپنی رہائش ) سے احرام باندھ کر سیدھے عرفات چلا جائے ۔ (آٹھ ذی الحجہ کو منی جانا سنت  ہے اگریہ چھوٹ جائے تو حج صحیح ہے مگربلاکسی سبب قصدا منی جانا نہ چھوڑے )۔

عرفات پہنچ کر ظہر کے وقت ہی ایک اذان اور الگ الگ دو اقامت سے ظہر وعصر کی دو دو  رکعت نماز (جمع وقصر) ادا کرے۔نماز ادا کرکے غروب شمس تک دعاواستغفاراور ذکرواذکار میں مصروف رہے ۔ عرفہ کی بہترین  دعاجو نبی ﷺ نے سکھائی ہے (لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ  وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیر) اسے باربار پڑھے ۔

جب سورج ڈوب جائے تو مزدلفہ کے لئے روانہ ہو۔

عید کی رات

مزدلفہ پہنچ کر ایک اذان اور دو الگ الگ اقامت سے مغرب کی تین اور عشاء کی دو  رکعت (جمع وقصر) ادا کرے ۔ نماز ادا کرنے کے بعد اگلے دن اطمینان سے مناسک حج ادا کرنے کے لئے سو جائے ۔ فجر کی نماز ادا کرکے مشعر حرام کے پاس صبح روشن ہونے تک اذکار کرتا رہے ۔ سورج نکلنے سے پہلے پھرمنی ( جمرات) کی طرف روانہ ہو۔ معذور آدمی آدھی رات کو بھی نکل سکتا ہے
دس ذی الحجہ (یوم النحر)

آج یوم النحر(قربانی کادن) ہے ۔ اس دن  پہلے صرف ایک جمرہ (عقبہ) کو جو مکہ سے متصل ہے سات کنکری مارے ۔ کنکری ایک ایک کرکے اللہ اکبر کہتے ہوئے مارے۔ کنکر کو جمرہ میں لگنا یا کم ازکم حوض میں گرنا ضروری ہے ورنہ  کنکری شمار نہیں ہوگی۔

پھر بال منڈوالے یا چھوٹا کرلے اور احرام کھول دے (تحلل اول حاصل ہوا جس میں بیوی کے سوا سب کچھ حلال ہوگیا)۔ اس کے بعد حرم شریف جاکر طواف افاضہ کرے اور اگر طواف قدوم کے ساتھ سعی کرلیا تھا تو آج سعی کی ضرورت نہیں  لیکن اگر پہلے سعی نہیں کی ہو تو طواف افاضہ کے ساتھ سعی بھی کرے گا۔ یہ طواف وسعی عام لباس میں کرنا ہے کیونکہ رمی جمرہ اور حلق/تقصیر کے بعد مفرد حلال ہوگیا۔تین کام کرنے (رمی، حلق،طواف یاسعی)  سے بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے ۔

اگر ان کاموں کی ترتیب بدل جائے یعنی طواف وسعی کرلے پھر بعد میں کنکری مارے اور حلق کروائے تو کوئی حرج نہیں۔ طواف افاضہ آج نہ کرسکے تو ایام تشریق میں بھی کرسکتاہے۔ان کاموں سے فارغ ہوکر منی واپس آجائے ۔
ایام تشریق (رمی جمرات کے دن)

کم ازکم دو دن یا تین دن منی میں رات گذارنا واجب ہے ۔ ان دنوں میں تینوں جمرات(جمرہ صغری، جمرہ وسطی ، جمرہ عقبہ) کو بالترتیب سات سات کنکری مارنی ہے ۔ رمی کا  وقت ظہر سے شروع ہوتا ہے اور مغرب تک رہتا ہے ، مجبوری میں فجر تک مارسکتے ہیں۔ معذوریا بیمار کی طرف سے کوئی دوسرا  آدمی بھی کنکری مارسکتا ہے۔ پہلے جمرے کو کنکری مار کرقبلہ رخ ہوکر لمبی دعا کرنی چاہئے ، پھر دوسرے جمرے کو کنکری مار کر قبلہ رخ لمبی دعا کرےاور تیسرے جمرے کو کنکری مار کر(دعاکئے بغیر) چلا جائے۔

اگر کوئی چاہے تو گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کی کنکری مار کر واپس جاسکتا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ سورج ڈوبنے سے پہلے منی چھوڑدے اور تیرہ کو بھی کنکری مارتا ہے تو اچھا ہے ۔

تیرہ تاریخ کی کنکری مارنے کے بعد حج کا سارا کام ہوگیا ، اب صرف ایک کام باقی ہے جب مکہ سے اپنی رہائش یا اپنے وطن کو لوٹنا ہو تواس وقت طواف وداع کرے یہ واجب ہے۔اور طواف کی دو سنت ادا کرے۔ (حیض ونفاس والی عورت اور اہل مکہ کے لئے طواف وداع نہیں)

طواف افاضہ دس ذی الحجہ کو نہ کرسکا ہو تو ایام تشریق میں کسی دن کرلے ، ان دنوں میں بھی فرصت نہیں ملی تو رخصت ہوتے وقت طواف وداع کے ساتھ ایک ہی نیت میں کرلے ۔

ارکان ،واجبات اور ممنوعات کے احکام

حج کے ارکان

(1) احرام (حج کی نیت کرنا)(2) میدان عرفات میں ٹھہرنا(3) طواف افاضہ کرنا(4) صفا و مروہ کی سعی کرنا

حج کے واجبات

(1) میقات سے احرام باندھنا(2) سورج غروب ہونے تک عرفہ میں ٹھہرنا(3) عید کی رات مزدلفہ میں گذارنا(4) ایام تشریق کی راتیں منی میں بسر کرنا(5) جمرات کو کنکری مارنا(6) بال منڈوانا یا کٹوانا(7) طواف وداع کرنا(حیض و نفاس والی عورت کے لئے نہیں ہے )۔

ممنوعات احرام

حالت احرام میں نو کام ممنوع ہیں جنہیں محظورات احرام کہاجاتاہے ۔ (1)بال کاٹنا(2)ناخن کاٹنا(3)مردکو سلاہواکپڑا پہننا(4)خوشبولگانا(5)مردکاسرڈھانپنا(6)عقدنکاح کرنا(7)بیوی کو شہوت سے چمٹنا(8) جماع کرنا(9)شکار کرنا۔عورت کے لئے دستانہ  اور برقع ونقاب منع ہے تاہم اجنبی مردوں سے پردہ کرےگی۔
ارکان ،واجبات اور ممنوعات کے احکام

٭ اگر کسی نے حج کے چار ارکان میں سے کوئی ایک رکن بھی چھوڑ دیا تو حج صحیح نہیں ہوگا۔

٭مذکورہ  بالاسات واجبات میں سے کوئی ایک واجب چھوٹ جاتا ہے تو حج صحیح ہوگامگر ترک واجب پہ دم دینا ہوگا۔ دم کی طاقت نہ ہو تو دس روزہ رکھ لے ، تین ایام حج میں اور سات وطن واپس ہونے پہ ۔

٭جوشخص لاعلمی میں ممنوعات احرام  میں سےکسی کا ارتکاب کرلے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن اگر جان بوجھ کر ارتکاب کیا توفدیہ دینا ہوگا(گرایک سے لیکر پانچ تک میں سے کسی کا ارتکاب کیاہو)۔فدیہ میں یاتو تین روزہ یا ایک ذبیحہ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ شکار کرنے کی صورت میں اسی کے مثل جانور ذبح کرناہوگا۔عقدنکاح سے حج باطل ہوجاتاہے۔اگر تحلل اول سے پہلے جماع کرلے توعورت ومرد دونوں کا حج باطل ہوجائے گا اور اگر تحلل اول کے بعد طواف افاضہ سے پہلے جماع کرے تو حج صحیح ہوگامگر اس کا احرام ختم ہوجائے گا وہ حدود حرم سے باہر جاکر پھر سے احرام باندھے تاکہ طواف افاضہ کرسکے اور فدیہ میں ایک بکری ذبح کرے ۔ 

حج کرنے والوں کے لئے چند تنبیہات

·        جیساکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مکہ والےصرف حج افراد کرسکتے ہیں غلط ہے وہ لوگ بھی تینوں قسم کا حج کرسکتے ہیں البتہ یہ جب حج قران یا تمتع کریں تو انہیں قربانی نہیں دینی ہے ۔

·        مکہ والے حج افراد یا قران میں اپنی رہائش سے ہی احرام باندھیں گے ۔

·        حج کی تین قسموں میں  افراد میں قربانی نہیں دینی  پڑتی ہے ۔

·        حج قران کا بھی یہی طریقہ ہے ، اس لئے جو حج قران کرنا چاہتے ہوں وہ اسی طرح حج قران کرے جیساکہ اس میں حج افراد کا طریقہ بتایاگیا ہے بس نیت کا فرق ہے ، نیت اس طرح کریں” اللھم لبیک حجا وعمرۃ”۔نیز قران کرنے والا قربانی بھی دے۔

·        حج میں مدینہ جانا ضروری نہیں ہے یعنی زیارت مدینہ  کا تعلق حج سے نہیں ہے ،پھر بھی اگر باہری ملک والے زیارت بھی کرنا چاہتے ہوں تو اچھاہے کیونکہ انہیں ایک بار ہی یہاں آنے کا موقع ملتاہے ۔

Leave a Comment

Translate »