باب النکاح

حضرت محمدﷺ نے مسلم امہ کو نکاح کی ترغیب دی ہے اور اس کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔نیک عورت اس کائنات کی سب سے قیمتی اور حسین و جمیل چیز ہے۔ یہ وہ ابدی حقیقت ہے جس کا اظہار محسن کائنات حضرت محمدﷺ  نے ان الفاظ میں فرمایا ہے: دنیا پورے طور پر سرمایہ زندگی ہے اور دنیا کا سب سے اچھا سرمایہ نیک عورت ہے۔

صنف نازک کی برتری کے لئے اس سے بڑی شہادت دنیا میں اب تک نہیں دی گئی ہے۔ عورت کائنات کی سب سے محبوب چیز ہے انسان کی فطرت سلیمہ میں عورت کی صحبت سمو دی گئی ہے۔ اس دنیا کا سارا حسن و جمال عورت کے مقابلے میں ہیچ ہے۔

خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ لو گوں کے لئے عورت کی محبت و خواہش سنوار دی گئی ہے۔ (آل عمران ۱۴:۳)

حضرت محمد ﷺ نے عورت ذات سے اس طرح محبت کا اظہار فرمایا ہے: میری فطرت میں عورت کی محبت ڈال دی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔

آپ ﷺ نے ہمیشہ عورت سے لطف و احسان کی تاکید فرمائی ہے: عورتوں کو بھلائی کی تاکید کرتے رہو۔

نکاح کی ترغیب

اسلا م نے عورت کو مرد کے ساتھ ایمان، روحانیت اور نکاح کے شرعی رشتے سے باند ھ رکھا ہے اور اسے آزاد حیوانی زندگی گزارنے سے منع کیا ہے۔ عورت مرد کے لئے اور مرد عورت کے لئے لباس ہے۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں کی جنس مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔یہ دونوں فرد اکائی ہونے کے باوجود زوج(جوڑا) ہیں۔ ان کا ایک دوسرے سے الگ رہنا فطرت کے تقاضوں کو تار تار کرتا ہے۔ اس لئے کہ دونوں کی ذات ایک دوسرے کا جزو ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ کا فرما ن ہے کہ اور اسی کے نشانات(اورتصرفات) میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ تم ان کی طرف مائل ہو کر آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

 

حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مسلمانو! نکاح کیا کرو،کیونکہ میں تمہارے سبب سے اس بات میں دنیا کی اور قوموں سے سبقت لے جانا چاہتا ہوں کہ میری امت شمار میں ان سب سے زیادہ ہو۔

حضرت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ  حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریاں اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے، کیونکہ ا س سے نگاہیں نیچی رہتی ہیں اور شرم گاہوں کی حفاظت ہوتی ہے، اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ اُٹھا سکتا ہو اس کو چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لئے روزے رکھے۔ 

عورت کا انتخاب

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا،عورتوں سے ان کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ ان کا حسن و جمال انہیں تباہی کے راستے پو ڈال دے اور نہ ان کے مال و دولت کے لئے ان سے شادی کرو، ہو سکتا ہے کہ ان کا مال ان کو سر کشی اور طغیانی میں مبتلا کر دے، بلکہ دیں کی بنیاد پر ان سے شادی کرو، اور کالی کلوٹی باندی جو دین اور اخلاق سے آراستہ ہو وہ بہت بہتر ہے اس خاندانی حسینہ سے جو بد اخلاق ہو۔(ابن ماجہ)

نکاح کا پیغام

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہارے یہاں کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن اور خوش ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں زبردست فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔(ترمذی)

نکاح کے لئے اجازت

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نکاح شدہ عورت کا نکاح اس کی رائے لئے بغیر نہ کیا جائے اور دوشیزہ کا نکاح اس سے اذن لئے بغیر نہ کیا جائے۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ دوشیزہ کا اذن کیاہوگا؟ فرمایا اس  کا خاموش رہنا ہی اس کا اذن ہے۔

نکاح میں برکت

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم مصارف ہوں۔ (مشکوٰۃ)

مہر

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں لوگ عجمی لوگوں کے رسم و رواج سے متاثر ہو کر بھاری بھاری مہر مقرر کرنے لگے تو آپ ؓ نے خطبہ میں لوگوں کی توجہ اس طرف دلائی اور بتلایا کہ مسلمانوں کے سوچنے کا انداز کیا ہونا چاہئیے

فرمایا، لوگو! عورتوں کے بھاری بھاری مہر نہ مقرر کرو اس لئے کہ اگر یہ دنیا ذرا بھی عزت و شرف کی چیز ہوتی اور اللہ کی نظر میں یہ کوئی بڑائی کی بات ہوتی تو نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ سے زیادہ مہر مقرر فرماتے، لیکن جہاں تک مجھے علم ہے رسول اللہ ﷺ نے  خود اپنے نکاح میں بھی بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر نہیں فرمایا اور نہ صاحبزادیوں کی شادی میں بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر باندھا۔

 ایک بوڑھی خاتون کھڑی ہوئیں اور انہوں نے قرآن شریف کی آیت واتیتم احد مھن قنطارا، پڑھتے ہوئے  اس پابندی پر اعتراض کیا ،حضرت عمرؓ منبر پر سے فرماتے ہوئے اتر گئے،کہ:

کل الناس اعلم من عمر حتی العجائز

ترجمہ: ہر شخص عمرؓ سے زیادہ علم والا ہے حتی کہ بوڑھیاں بھی۔ اور آپ اس مسئلہ میں شدت فرمانے سے رُک گئے۔ (ترمذی)

مہر ادا کرنے کی نیت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کسی مرد نے بھی کسی عورت سے تھوڑے یا زیادہ مہر پر نکاح کیا اور اس کے دل میں مہر ادا کرنے کا ارادہ نہیں تو اس نے عورت کو دھوکہ دیا، پھر وہ پہر ادا کئے بغیر مر گیا تو وہ اللہ کے حضور ا س حال میں حاضر ہو گا کہ زنا کا مجرم ہو گا۔ (الترغیب والترہیب)

نکاح کا انعقاد

نکاح ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ کم از کم دو مردوں کے یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے کیا جائے اور وہ اپنے کانوں سے نکاح ہوتے اور وہ دونوں سے ایجاب و قبول کے لفظ کہتے سنیں، تب نکاح ہو گا۔(بہشتی زیور)

شرع میں اس کا بڑا خیال کیا گیا ہے کہ بے میل اور بے جوڑ نکاح نہ کیا جائے۔ یعنی لڑکی کا نکاح کسی ایسے شخص سے نہ کرو جو اس کے برابر درجہ کا نہ ہو۔(شرح البدایہ،بہشتی زیور)

برابری کی کئی قسمیں ہوتی ہیں:

۔نسب میں برابر ہونا

۔مسلمان ہونا

۔دین داری

۔مالداری

۔پیشہ یا فن میں ہم پلہ ہونا

(عالمگیری، بہشتی زیور)

ہمبستری کے مسائل:

قرآن و حدیث کی روشنی میں:

* بیوی سے ہمبستری کرنا بھی صدقہ/ثواب ہے.

مسلم:2329

۔میاں بیوی کسی بھی طریقے سے ہمبستری کر سکتے ہیں یعنی کوئ بھی طریقہ اپنا سکتے ہیں.

البقرہ:223

بخاری:4528 

حیض کے دوران ہمبستری کرنا حرام ہے.

2980ترمذی:

البقرہ:222

* حیض کے دوران غلطی سے ہمبستری کر لینے سے اگر حیض کا خون سرخ ہو تو ایک دینار اور خون زرد ہو تو نصف دینار صدقہ کر دینا چاہیۓ.

ترمذی:137

ایک دینار ساڑھے چار ماشے یعنی تقریبا چار گرام کا ہوتا ہے.

حیض کے دوران بیوی سے بوس و کنار , ساتھ لیٹنا اور ساتھ کھانا پینا وغیرہ جائز ہے.

مسلم:694

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی دبر (پچھلے سوراخ) میں جماع کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے.

ترمذی:1165 اور 2162

* دخول سے دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال ہو یا نہ ہو.

بخاری:291

مسلم:783

ترمذی:111

* ہمبستری کے فورأ بعد غسل کرنا واجب نہیں. اگر سونے کا ارادہ ہو تو استنجا اور وضو کر کے سو سکتے ہیں.

مسلم:705

ترمذی:2924

* دوسری یا تیسری بار ہمبستری کرنی ہو تو ہر بار درمیان میں غسل کرنا واجب نہیں. استنجا اور وضو کافی ہے.

ترمذی:140, 141

* اگر کسی غیر عورت پر نظر پڑنے سے شہوت پیدا ہوجاۓ تو گھر جا کر اپنی بیوی سے ہمبستری کر لینی چاہیۓ.

مسلم:3407

بیوی سے عزل کرنا جائز ہے.

بخاری:2229

عزل یہ ہے کہ جب آدمی کو انزال قریب ہو تو منی باہر گرا دے تاکہ بچہ پیدا نہ ہو. علماء نے عزل سے استدلال کر کے condom کو جائز قرار دیا ہے.

* حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا شیرخوار بچہ فوت ہو گیا, ان کے شوہر گھر آے تو انہوں نے ان کو کھانا دیا, رات کو ہمبستری کے بعد شوہر کو بتایا کہ اپنا بچہ فوت ہو گیا ہے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا دی.

مسلم:6322

جب آدمی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیۓ بیوی کو بستر پر بلاۓ تو اسے فورأ آجانا چاہیۓ اگرچہ وہ کسی سواری پر بیٹھی ہویا تنور پر (روٹی بنا رہی) ہو۔

ترمذی:1169

ابن ماجہ:1853

اگر شوہر کے بلانے سے بیوی بغیر کسی عذر کے نہ آے تو فرشتے ساری رات اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں.

مسلم:3541

* خلوت یعنی ہمبستری کی باتیں دوستوں/سہیلیوں کو بتانا حرام ہے.

السلسلہ الصحیحہ البانی:46

نوٹ:

یہ مسائل تحریر کرنے کی وجہ یہ کہ اکثر لوگ ان سے لا علم ہیں اور بے جاشرم کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ھوتے ہیں ۔ قرآن و سنت مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں زندگی گزارنے کے تمام اصول بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نافرمانی سے بچ کر عمل صالح کریں اور جنت کے مستحق بنیں ۔

کن کن سے پردہ کرناضروری نہیں ہے؟

عورت اپنے محرم مردوں سے پردہ نہیں کرے گی اور عورت کا محرم وہ ہوتا ہے جس سے ہمیشہ کیلئے نکاح حرام ہو، حرمت نکاح کے تین اسباب ہیں :
1۔ قرابت داری
2۔ دودھ کا رشتہ
3۔ سسرالی تعلق

نسبی محارم
قرابت داری کی وجہ سے محارم کی تفصیل حسب ذیل ہے :
1۔ آباءو اجداد : عورتوں کے باپ، ان کے اجداد اوپر تک، ان میں دادا اور نانا سب شامل ہیں۔
2۔بیٹے : عورتوں کے بیٹے، ان میں بیٹے، پوتے، نواسے وغیرہ۔
3۔ عورتوں کے بھائی : ان میں حقیقی بھائی، باپ کی طرف سے اور ماں کی طرف تمام بھائی شامل ہیں۔
4۔ بھانجے اور بھتیجے : ان میں بھائی کے بیٹے اور بہن کے بیٹے اور ان کی تمام نسلیں شامل ہیں۔
5۔ چچا اور ماموں : یہ دونوں بھی نسبی محارم میں شامل ہیں، انہیں والدین کا قائم مقام ہی سمجھا جاتا ہے، بعض دفعہ چچا کو بھی والد کہہ دیا جاتا ہے۔

رضاعی محارم :
اس سے وہ مراد ہیں جو رضاعت یعنی دودھ کی وجہ سے محرم بن جاتے ہیں، حدیث میں سے کہ اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی ان رشتوں کو حرام کیا ہے جنہیں نسب کی وجہ سے حرام کیا ہے ( مسند امام احمد ص 131 ج 1 ) جس طرح نسبی محرم کے سامنے عورت کو پردہ نہ کرنا جائز ہے اس طرح رضاعت کی وجہ سے محرم بننے والے شخص کے سامنے بھی اس کیلئے پردہ نہ کرنا مباح ہے یعنی عورت کے رضاعی بھائی، رضاعی والد اور رضاعی چچا سے پردہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے رضاعی چچا، افلح، آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے انہیں اجازت نہ دی بلکہ ان سے پردہ کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے پردہ نہ کرو اس لئے کہ رضاعت سے بھی وہی حرمت ثابت ہوتی ہے جو نسب کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے۔ ( صحیح مسلم، الرضاع : 1445)

اس حدیث کے مطابق عورت کے رضاعی محارم بھی نسبی محارم کی طرح ہیں لہٰذا رضاعی محارم سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سسرالی محارم :
عورت کے سسرالی محارم سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن سے شادی کی وجہ سے ابدی طور پر نکاح حرام ہو جاتا ہے جیسا کہ سسر اور اس کا بیٹا یا داماد وغیرہ۔ والد کی بیوی کیلئے محرم مصاھرت وہ بیٹا ہو گا جو اس کی دوسری بیوی سے ہو، سورۃ النور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے سسر اور خاوند کے بیٹوں کو شادی کی وجہ سے محرم قرار دیا ہے اور انہیں باپوں اور بیٹوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور انہیں پردہ نہ ہونے کے حکم میں برابر قرار دیا ہے۔

مذکورہ محرم رشتہ داروں کے علاوہ جتنے بھی رشتہ دار ہیں ان سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے خواہ وہ چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں، اسی طرح خاوند کے چچا اور ماموں سے بھی بیوی کو پردہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ اس کے خاوند کے چچا یا ماموں ہیں اس کے نہیں ہیں۔ 

 

اسلام میں لڑکے اور لڑکی کی پسند کی اہمیت یا ولی کی پسند کی؟

کی اہمیت ہے یا ولی کی پسند کی ؟

 

پہلے اسلام میں نکاح کے ارکان ، شرائط ، واجبات اور مستحبات کو سمجھ لیجے۔

ضروریات نکاح :

 

1- دو مسلمان عورت اور مرد کے نکاح کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ آپس میں محرم نہ ہوں یا ان کے نکاح میں کوئی اور شرعی رکاوٹ نہ ہو۔

 

3- دوسری شرط یہ ہے کہ ایجاب حاصل کرلیا جائے۔ 

حدیث ہے :

“بیوہ عورت کا نکاح پوچھے بغیر نہ کیا جائے، کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔” ( صحیح بخاری : 5136)

 

تیسری شرط یہ کہ قبول حاصل کرلیا جائے۔ یعنی لڑکا اور لڑکی کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔

 

4- چوتھی شرط یہ ہے کہ ایجاب و قبول کم از کم دو عادل گواہوں کی موجودگی میں ہو۔ ( الجامع الصغیر : 7558 )

 

5- پانچویں چیز ولی کا ہونا ہے۔ 

 

((لا نکاح الا بولی ))

“ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔” 

( ابوداود : 2085, ترمذی : 1101، ابن ماجہ : 1881)

 

 ولی پہلے لڑکی کا باپ ہے ، پھر دوسرے ترتیب وار دادا ، بھائی، بھتیجا ، چچا ، چچا زاد بھائی۔  ددھیالی رشتےدار ہو۔ بعض نے ماموں کو بھی آخر میں شامل کیا ہے۔اگر کوئی نہ ہو تو ( جیسے نو مسلم لڑکی) پھر “حاکمِ وقت” یا اس کی “ماتحت عدالت” ولی ہوگی۔ عورت ولی نہیں ہوسکتی۔

 

6- چھٹی چیز مہر ہے ، جو واجب ہے، اس پر اجماعِ امت ہے۔

 

7- ساتویں چیز اعلانِ نکاح ہے۔

 اعلنوا النکاح ( صحیح الجامع : 1072)

نکاح خفیہ نہ ہو۔ مسجد میں ہوتو بہتر ہے”ضروری نہیں’ کسی بھی جگہ ہوسکتا ہے۔

 

8- آٹھویں چیز خطبہ ء نکاح ہے۔

 یہ مستحب ہے۔ 

 خطبے کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے۔

 

9- نویں چیز نکاح کی Registration رجسٹریشن ہے۔ حکومت نکاح کو رجسٹر کرتی ہے۔

پاکستان میں ( Family courts ) فیملی کورٹ اور یونین کونسلوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ نکاح رجسٹر کریں۔ کورٹ میریج صحیح ہے ، اگر ولی بھی وہاں موجود ہو۔

 

فیملی کورٹ ، نکاح رجسٹرار ( قاضی) مقرر کرتی ہے ، جو عدالت کے حکم پر نکاح پڑھا کر رجسٹریشن کرتے ہیں۔کبھی نکاح خواں بڑا عالم یا متقی شخص ہوتا ہے۔ اکٹر اوقات نکاح رجسٹرار ہی نکاح خواں ہوتا ہے۔

اسلام نے لڑکی اور ولی کو ایک دوسرے کا پابند کیا ہے۔ نہ تو تنہا لڑکی ولی کے بغیر شادی کرسکتی ہے اور نہ ولی اپنی مرضی زبر دستی مسلط کر سکتا ہے۔

اگر باپ ، دادا یا کوئی اور ولی ، نیک لڑکی کا رشتہ کسی غیر دین دار فاسق و فاجر غیر موزون مرد سے زبردستی کرنا چاہے تو لڑکی عدالت جاکر اس کی ” ولایت” منسوخ کراسکتی ہے اور کسی متقی عالم ، دین دار ، برادری کے معتبر شخص کو اپنا ولی مقرر کر سکتی ہے ، جو اس کے ولی بن کر اس کے لیے مناسب موزون دین دار رشتہ تلاش کریں۔

اسلام کی لڑکی پر پابندی:

حدیث ہے : 

“جو عورت ولی کے بغیر نکاح کرلے، وہ باطل ہے ، وہ باطل ہے ، وہ باطل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اختلاف ہو جائے تو پھر حاکم ، ہر اس عورت کا ولی ہے ، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ ” 

( ابو داود: 2083 صحیح )

 

بدکار لڑکیاں بھاگ جاتی ہیں۔ اپنا نکاح خود ولی کے بغیر کرلیتی ہیں۔  

 

صحیح حدیث ہے:

“عورت عورت کا نکاح نہ کرے۔ نہ خود اپنا نکاح کرلے۔ بدکار عورت اپنا نکاح خود کرلیتی ہے ۔( ابن ماجہ : 1882)

عورت ولی نہیں بن سکتی۔

اسلام کی ولی پر پابندی:

حضرت خِدام انصاری نے اپنی بیٹی خنساء کا نکاح ایک شخص سے کیا۔ بیٹی کو یہ پسند نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کردیا۔ خاتون نے حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر سے نکاح کیا۔ ( صحیح بخاری 5138,5139 ، اب ماجہ : 1873)

“ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح بھتیجے سے کردیا۔ لڑکی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ نے نکاح فسق کردیا۔ لڑکی نے کہا : میں والد کے نکاح کو قبول کرتی ہوں لیکن تمام باپوں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں (تنہا) اختیار نہیں۔

(ابن ماجہ : 1874، صحیح الاسناد)

حضرت قدامہ نے اپنی بھتیجی کا نکاح حضرت عبداللہ بن عمر سے کردیا ۔ اسے یہ رشتہ پسند نہیں تھا۔ وہ حضرت مغیرہ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے پہلا نکاح فسق کرکے حضرت مغیرہ سے کردیا۔ 

( ابن ماجہ: 1878)

حاصل کلام :

اولاد کو چاہیے کہ عمر ، تعلیم ، دین ، خاندان ، حسن اور اخلاق و کردار کے بارے میں اپنی پسند ولی اور والدین کو بتادیں۔ لڑکی ولی کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی۔

ولی اور والدین کو اولاد کی پسند کا احترام کرنا چاہیے۔ لڑکے اور لڑکی کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔

قرآن و سنت پر کامل ایمان رکھنے والی اولاد اور ان کے والدین شریعت کی حدود میں رہتے ہیں۔

والدین کی موجودگی میں لڑکا اور لڑکی کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کی پسند معلوم کرلی جائے۔ تنہائی میں غیر محرم سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔

شادی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنا مستحب ہے۔ ( ابوداود: 2082، ابن ماجہ : 1865,1866, صحیح الاسناد)

 

شادی پسند کی ہو ، لیکن اسلام میں مغرب کا وہ تصور نہیں ، جسے لو میرج ( Love marriage ) کہتے ہیں۔

 

Leave a Comment

Translate »