ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا

  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت محمد ﷺ کی پہلی بیوی تھیں۔ اسلام کی تبلیغ اور اشاعت میں آپ کا کردار بہت اہم ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے آپ کی  ۔زندگی میں دوسری شادی نہیں کی۔ اس لئے آپ ﷺ آپ کوپیار سے  ملیکۃ العرب کہہ کر پکارتے تھے۔

پیدائش اور خاندان

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا ۵۵۶ عیسوی میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ ؓ کے والد کا نام خویلد اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ آپ ؓ کا تعلق قبیلۂ قریش سے تھا۔ آپ ؓ اپنے بلند کردار کی وجہ سے مکہ میں طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیِ۔

شادی

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی پہلی شادی ابو ہالہ تمیمی سے ہوئی۔ جس سے دو لڑکے ہند اور حارث پیدا ہوئے۔ دور رسالت میں ان دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ابو ہالہ تمیمی کی وفات کے بعد آپ ؓ شادی عتیق مخزومی سے ہوئی جس سے ایک لڑکی ہند پیدا ہوئی۔ اسی نسبت سے آپ ام ہند کی کنیت سے مشہور ہوئیں، عتیق مخزومی بھی کچھ عرصے بعد انتقال کر گئے۔ 

تجارت کا پیشہ

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہاکے والد بہت بڑے تاجر تھے۔ ان کی وفات کے بعد آپ ؓ نے بھی تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔ آپ ؓ اپنے تجارتی نمائندوں کو سامان تجارت دے کر روانہ کیا کرتی تھیں۔ جو آپ ؓ کی طرف سے کاروبار کرتے تھے۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی کریم ﷺ کی امانت، دیانت اور اعلیٰ اخلاق کی شہرت سنی تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ میرا سامان لے کر تجارت کیجئے۔ میں جتنا نفع دوسروں کو دیتی ہوں اس سے دوگنا آپ و کو دوں گی۔ نبی کریم ﷺ نے یہ پیش کش قبول کر لی۔ 

شام میں تجارت

حضرت محمدﷺ تجارتی سامان لے کر قافلے کے ساتھ شام کی طرف روا نہ ہوئے۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنا غلام میسرہ  بھی آپﷺ کی خدمت گزاری کے لئے بھیجا۔ آپﷺ نے شام کی تجارت میں دُگنا نفع کمایا۔جب حضور اکرمﷺ نے آپؓ کو مکہ واپس آکر تمام کاروباری تفصیلات سے آگاہ فرمایا تو آپ بہت خوش ہوئیں۔ اور آپ ﷺ کی دیانت اور ایمان داری سے بہت متاثر ہوئیں۔حضرت خدیجہؓ نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعے آپﷺ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ جسے آپﷺ نے قبول فرمایا۔ نکاح کے وقت حضرت خدیجہ ؓ کی عمر چالیس سال اور حضرت محمدﷺ کی عمر پچیس سال تھی۔ حٖضرت خدیجہ ؓ اور حضرت محمدﷺ کی اولاد میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔

غم گُسار اور فرما ں بردار

ام المومنین

ھضرت خدیجہ ؓ ہر معاملے میں آپﷺ کی غم گسار اور فرماں بردار تھیں۔ حضور اکرمﷺ ہر بات اور کام میں آپ ؓ سے مشورہ لیتے تھے۔ 

پہلی وحی کے وقت حضرت خدیجہؓ کی تسلی

جب غار حرا میں حضرت محمدﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپﷺ بہت زیادہ گھبراہٹ میں گھر تشریف لائے۔ اس وقت آپؓ نے حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی اور چادر اوڑھتے ہوئے فرمایا۔

اللہ آپﷺ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گاکیونکہ آپﷺ رشتہ داروں سے اچھااور نیک سلوک کرتے ہیں۔ حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی حفاظت کرے گا اور ہر نقصان سے بچائے گا۔

وحی کے وقت حضرت خدیجہ ؓ کی تسلی

Leave a Comment

Translate »