حضرت ہاجرہ کا ملنا اور آب زم زم کا واقعہ

 

واقعہ: حضرت ہاجرہؑ کا ملنا

تایک بار حضرت ابراہیم ؑ مصرتشریف لے گئے۔ فرعون نے آپؑ کی بیوی حضرت سارہؑ کے حسن و جمال کے بارے میں سنا تو ان کے بارے میں بد نیت ہو گیا۔ اور اپنے دربار میں برے ارادے سے بلایا لیکن اللہ نے حضرت سارہؑ کی دعا کے نتیجے میں غیبی طور پر فرعون کی ایسی گرفت کی کہ وہ گر کے ہاتھ پاؤں مارنے لگااس کی نیت بد اس کے منہ پر مار دی گئی اور وہ حادثے کی نوعیت سے سمجھ گیا کہ حضرت سارہ ؑ اللہ تعالیٰ کی نہایت خاص اور مقرب بندی ہیں اور وہ حضرت سارہؑ کی اس خصوصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی بیٹی ہاجرہ کو ان کی خدمت میں دے دیا۔ پھر  حضرت سارہؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو  حضرت ابراہیمؑ کی زوجیت میں دے دیا۔

حضرت اسماعیلؑؑ کی ولادت 

حضرت ابراہیمؑ،حضرت سارہؑ اور حضرت ہاجرہؑ کو ہمراہ لے کر فلسطین واپس تشریف لائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کوحضرت ہاجرہؑ کے بطن سے ایک فرزند ارجمند۔۔۔اسماعیل۔۔۔عطا فرمایا لیکن اس پر حضرت سارہؑ  جو کہ بے اولاد تھیں، بہت غیرت آئی اور انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کو مجبور کیا کہ ان کے معصوم بچے سمیت جلا وطن کر دیں۔ حالات کا رُخ ایسا بدلا کہ حضرت ابراہیمؑ کو ان کی بات ماننی پڑی۔وہ اپنی بیوی حضرت حاجرہؑ اور بچے حضرت اسماعیلؑ کو اپنے ساتھ حجاز لے گئے۔اور وہاں ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیت اللہ شریف کے پاس قیام کیا۔ اس وقت وہاں بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ نہ تھا۔ صرف ٹیلے کی طرح اُبھری ہوئی زمین تھی۔ سیلاب آتا تو دائیں بائیں سے ہو کر نکل جاتاوہیں مسجد حرام کے بالائی حصے میں زم زم کے پاس ایک بڑا درخت تھا۔ آپؑ نے اسی درخت کے پاس حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو چھوڑا تھا۔ اس وقت مکہ میں نہ پانی تھا نہ آدم اور آدم زاد۔ حضرت ابراہیمؑ نے وہاں پر ایک توشہ دان میں کھجور اور ایک مشکیزے میں پانی رکھ دیا۔

زم زم کا واقعہ

چند دنوں بعد جب سب کچھ ختم ہو گیا تو حضرت ہاجرہؑ بے قرار ہو کر پہاڑی پر چڑھی کہ پانی تلاش کر یں اور بچے کی طرف بھی دھیان تھا۔ بے قراری میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جاتیں اور بچے کو بھی دیکھتی جاتیں کہ کو ئی جانور اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔ اسی طرح سات دفعہ چکر لگائے۔ اللہ سے دعا مانگتی جاتی تھیں آخر کی رحمت جوش میں آئی حضرت اسماعیلؑ نے پیاس سے اپنی ایڑیاں رگڑیں تو اس جگہ سے زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ پانی اتنی روانی اور وافر مقدار میں نکلنا شروع ہوا کہ حضرت ہاجرہؑ کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں مکہ کی وادی اس میں ڈوب نہ جائے تو انہوں نے کہا زم زم یعنی رک جا ، رک جا۔۔۔۔ اس طرح پانی رک گیا اور اب یہ  چشمہ ایک کنواں کی شکل میں مکہ مکرمہ میں موجود ہے اور اس کے پانی میں اللہ نے شفا رکھی ہے۔

Water of Zam Zam

زم زم کا معجزہ

اللہ نے آب زم زم کو قیامت تک کے لئے ایک معجزہ بنا کر رکھا ہے۔اس پانی کو جس نیت سے پیا جائے وہی نیت پوری ہوتی ہے اور اس میں مختلف بیماریوں کی شفا ہے۔ یہ انتہائی صاف اور شفاف پانی ہے جس کے کنواں میں نہ پھپھوندی لگتی ہے اور نہ ہی اس میں بد بو پیدا ہوتی ہے۔دنیا بھر سے حجاج کرام اس پانی کو بطور متبرک لے کر جاتے ہیں۔ اس کو پینےسےپہلے قبلہ رخ کھڑے ہو کر جو جائز دعاپڑھی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے۔

قبیلہ جزہم ثانی

کچھ عرصے بعد یمن سے ایک قبیلہ مکہ آیا جسے تاریخ میں جرہم ثانی کہا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اسماعیلؑ کی ماں سے اجازت لے کر مکہ میں ٹھہر گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلہ پہلے مکہ کے گردوپیش کی وادیوں میں سکونت پذیر تھا۔یہ لوگ مکہ میں حضرت اسماعیلؑ  کی آمد کے بعد اور ان کے جوان ہونے سے پہلے وارد ہوئے تھے۔

حضرت ابراہیمؑ کا خواب

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ

اللہ  نے حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں دکھلایا کہ وہ اپنے صاحبزادے (حضرت اسماعیلؑ ) کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ خواب ایک طرح کا حکم الہیٰ تھا اور باپ بیٹا دونوں اس حکم الہیٰ کی تعمیل کے لئے تیار ہو گئے۔اور جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا  دیا تو اللہ نے پکارا: اے ابراہیمؑ! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی اور اللہ نے انہیں فدیے میں ایک عظیم ذبیحہ عطا فرمایا۔

( سورۃ صافات: ۱۰۳تا ۱۰۷ ) 

Leave a Comment

Translate »